جواب:صحیح حدیث میں ہے کہ رسولِ اکرم،نُورِ مُجَسَّم صَلَّی اللہ تعالٰی علیہ وَاٰلِہ وسلَّم کا ارشادِ نور بارہے: ’’اللہ عَزَّوَجَلَّ نے تمام چیزوں سے پہلے میر ے نور کو پیدا فرمایا۔ اُس وَقت نہ لَوح تھی نہ قلم ، نہ جنّت ، نہ دوزخ نہ فرشتے تھے ، نہ آسمان ، نہ زمین ، نہ سورج نہ چاند ، نہ جنّ نہ انسان تھے، پھر جب رب عَزَّوَجَلَّ نے اور مخلوق کو پیدا کرنا چاہا تو اس نور کے چار حصّے کئے ، ایک حصّے سے قلم دوسرے سے لوحِ محفوظ تیسرے سے عرش وغیرہ پیدا فرمایا۔(اَلْمَواہِب ج ۱ ص۳۶، کَشْفُ الخفاء ج۱ص۲۳۷، مدارجُ النّبوۃ ج ۲ ص۲ مُلخّصاً)جن جن چیزوں کی نسبت روایات میں اوّلیّت کا حکم آیا ہے ان اشیاء کا نورِ محمدی صَلَّی اللہ تعالٰی علیہ وَاٰلِہ وسلَّمسے بعد میں ہونا اس حدیث سے ثابت ہے ۔ مُفَسّرِشہیر حکیمُ الْاُمَّت حضر تِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الحَنَّان نے حدیثِ پاک کے اس حصّے ’’ رب نے جو چیز پہلے پیدا کی وہ قلم تھا ‘‘ کے تحت فرماتے ہیں : یہ اولیّت اِضافی ہے یعنی عرش،پانی، ہوا اور لوحِ محفوظ کی پیدائش کے بعد جو چیز سب سے پہلے پیدا ہوئی وہ قلم ہے۔’’ مرقا ت ‘‘ میں اس جگہ ہے کہ سب سے پہلے نورِ محمدی(صَلَّی اللہ تعالٰی علیہ وَاٰلِہ وسلَّم) پیدا ہوا،وہاں اَوّلیّتِ حقیقیہ مراد ہے۔(مراٰۃ المناجیح ج۱ص۱۰۳ ) امام قَسطَلانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّورَانی فرماتے ہیں :قلم کی اَوّلیّت نورِ محمدی (صَلَّی اللہ تعالٰی علیہ وَاٰلِہ وسلَّم) ، پانی اور عرش کے علاوہ (مخلوقات)کی نسبت سے ہے۔یہ بھی کہا گیا ہے کہ ہرایک کی اَوّلیّت اس کی جِنْس (یعنی قِسم) کی طرف اِضافت کے اعتِبار سے ہے یعنی اَنوار میں سے سب سے پہلے