Brailvi Books

مچھلی کے عجائبات
32 - 55
 کیا زمین مچھلی کی پیٹھ پر ہے؟
سُوال: کہا جاتا ہے کہ زمین ایک بَہُت بڑی مچھلی کی پیٹھ پر ہے اور پہاڑوں کے وُجُود کا سبب بھی یِہی مچھلی بنی ہے! 
جواب: جی ہاں ، اِس کے متعلِّق روایات موجود ہیں چُنانچِہ فتاوٰی رضویہ جلد27صَفْحَہ 95 پر درج ایک حدیثِ پاک کا ترجمہ کچھ یوں ہے: حضرتِ سیِّدُنا عبد اللہ  ابنِ عبّاس رضی اللہ تعالی عنہما فرماتے ہیں :اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ان مخلوقات میں سب سے پہلے قلم پیدا کیا، اُس سے کہا :’’لکھو،!‘‘ اُس نے عرض کی: کیا لکھوں ؟ارشاد ہوا:قَدر(یعنی تقدیر) کو لکھو،چنانچِہ اُس قلم نے وہ سب کچھ لکھا جو قِیامت تک ہونے والا تھا،پھر اُس کتاب کو لپیٹ دیا گیا اور قلم کو اٹھا لیا گیا۔ عرشِ الٰہی پانی پر تھا، پانی کے بُخارات(اَبخَرہ کی جمع۔ اَبخَرہیعنی بھاپ) اُٹھے، ان سے آسمان جُداجُدا بنائے گئے پھر مولیٰ عَزَّوَجَلَّ نے مچھلی پیدا کی، اُس پر زمین بچھائی ، زمین پُشتِ ماہی(یعنی مچھلی کی پیٹھ) پر ہے،مچھلی تڑپی ، زمین جھونکے لینے لگی تو اس پر پہاڑ جما کر بوجھل کر دی گئی۔  				(تفسیر دُرِّمَنْثورج۸ص۲۴۰)

سب سے پہلے نور ِمصطَفے پیدا ہوایا قلم؟
سُوال:  بیان کردہ روایت میں سب سے پہلے قلم کی پیدائش کا تذکرہ ہے جبکہ یہ بھی روایات ہیں کہ سب سے پہلے نورِ مصطَفٰے پیدا کیا گیا ہے، دونوں میں تطبیق(مُواَفقَت ) کیسے ہو؟