Brailvi Books

مچھلی کے عجائبات
31 - 55
	 ساتھ کُتُبِ فِقْہ میں تحریر فرمایا ہے ۔’’ حضرتِ سیِّدُنا جابر بن عبدُ اللہ رضی اللہ تعالی عنہ  سے روایت ہے کہ محبوبِ ربُّ العباد   صَلَّی اللہ تعالٰی علیہ وَاٰلِہ وسلَّم کاارشاد ِرحمت بنیاد ہے: ’’سَمُندر جس مچھلی کو پھینک دے یا (مچھلی کے کنارے کے قریب پہنچنے پر) پانی پیچھے ہٹ گیا(اور وہ مچھلی خشکی میں آنے کے سبب مر گئی )تو ایسی مچھلی کو کھاؤ اور جو(بِلا سبب ) پانی میں مَر کر اُلٹی تَیر گئی وہ نہ کھاؤ۔ ‘‘     (ابو داؤد ج۳ص۵۰۲حدیث۳۸۱۵)
	’’مَبسوط‘‘ میں ہے:ہمارے نزدیک مچھلی کے بارے میں اَصل اِباحت ہے ( یعنی مُباح ہونا۔اس مقام پر مُباح سے مراد وہ جاندار ہے جس کے حلال ہونے کے لئے ذَبح کی حاجت نہیں لہٰذا) اگر وہ کسی سبب کے ذریعے سے مر گئی تو حلال ہے اور بِغیر سبب کے یعنی خود بخود مری تو نہیں کھائی جائے گی اور اگر کسی پرندے نے اسے مار دیا تب بھی کھائی جائے گی اگرچِہ وہ پرندہ اُسے اٹھا کر پانی میں ڈالدے اور وہ مر جائے،یونہی اگر وہ کسی جال میں پھنس جائے اور اُس سے نہ نکل پائے اورمَر جائے تب بھی کھائی جائے گی، اگر کوئی ایسی چیز پانی میں ڈالی جس کے کھانے سے مچھلی مَر گئی اور پتا ہو کہ اس کے کھانے سے مری ہے تو کھائی جائے گی، یونہی پانی کے پیچھے ہٹ جانے کی وجہ سے ہلاک ہوئی تب بھی کھائی جائے گی، اسی طرح پانی کی لہر نے اُسے باہَر پھینک دیا اور وہ مَر گئی تب بھی کھائی جائے گی ۔
							 (اَلمَبسوط لِلسَّرَخْسی  ج ۱۱ ص ۲۷۷)