انفِرادی کوشِش کرتے ہوئے دعوتِ اسلامی کے سنّتوں کی تربیت کے ’’مدنی قافِلے‘‘ میں سفر کر کے وہاں دعا مانگنے کی ترغیب دلائی ، چُنانچِہ وہ تین دن کیلئے مَدَنی قافِلے کے مسافر بنے، واپَسی پر طبیعت بہتر پائی۔ جب ٹیسٹ کروائے تو تمام رَپورٹیں دُرُست تھیں ، ڈاکٹر حیرت سے اُچھل پڑا اورکہنے لگا کہ تمہارے دل کی دونوں بند نالیاں کُھل چکی ہیں ۔ آخِر یہ کیسے ہوا ؟ جواب دیا: اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزّ وَجَلَّ دعوتِ اسلامی کے مَدَنی قافِلے میں سفر کر کے دُعا کرنے کی بَرَکت سے مجھے دل کے مُہْلِک (مُھْ۔لِکْ) مَرَض سے نَجات مل گئی ہے ۔
لوٹنے رَحْمتیں قافِلے میں چلو سیکھنے سُنّتیں قافلے میں چلو
دل میں گر دَرْد ہو ڈر سے رُخ زَرْد ہو پاؤ گے فَرحتیں قافلے میں چلو
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
سَمُندر کی پھینکی ہوئی مچھلی کھانا کیسا؟
سُوال: سَمُندر جن مچھلیوں کو پانی سے باہَر پھینک دے اور وہ پانی کے نہ ہونے کی بِنا پر مر جائیں تو کیا وہ حلال ہیں ؟
جواب: جواباً دارالافتاء اہلسنت کے ایک مفتی صاحب کی تحقیق چند الفاظ کے ردّ وبدل کے ساتھ پیش کی جاتی ہے:جی ہاں ایسی مچھلیاں حلال ہیں اور ابھی بیان کردہ حدیثِ عنبر اس کی واضح دلیل ہے، فُقَہا ئے کرام رَحمَہُمُ اللہُ السّلام نے یہ مسئلہ تفصیل کے