Brailvi Books

مچھلی کے عجائبات
28 - 55
میں مسلمان ہوئے تھے۔ نہایت ہی دِلیر ، شیر دل ، بُلند قامَت تھے اور چِہرہ ٔمبارَکہ پر گوشت کم تھا، غَزْوَۂ اُحُد کے موقَع پر مدینے کے تاجدار ، شَہَنْشاہِ اَبرار صَلَّی اللہ تعالٰی علیہ وَاٰلِہ وسلَّم کے رخسارِ پُر اَنوار میں لَوہے کے خَود کی دو کَڑیاں  پَیْوَسْت ہو گئی تھیں ، اُنہوں نے اپنے دانتوں سے اُن کو کھینچ کر نکالا اس وجہ سے آپ رضی اللہ تعالی عنہ کے دو اگلے دانت شہید ہو گئے تھے۔ (الاصابہ ج۳ ص۴۷۵،۴۷۶)اللہ ربُّ العزّتعَزَّوَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور اُن کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو۔

 آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلَّم 
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! 		صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
	
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! غزوۂسِیْفُ البَحْر کے موقع پر قد آوَر مچھلی کا مِل جانا، ایک ماہ تک صَحابۂ کرام عَلَيهِمُ الرِّضْوَان کا اس کو تناوُل فرمانا، اونٹوں پر لاد کر ساتھ لانا، مدینۃُالمنوَّرہ زادَھَا اللہُ شَرَفًاوَّ تعظیمًا بھی ساتھ لے آنا، مچھلی کے گوشت کے ذائقے میں تغیُّر (تَ۔غَیْ۔یُر۔ ) نہ آنا۱؎ یہ سب اللہ ربُّ العزّت عَزَّوَجَلَّ کی رَحْمت سے سیِّدُنا ابو عُبَیْدہ بن جَرّاح رضی اللہ تعالی عنہ اورصَحابۂ کرام عَلَيهِمُ الرِّضْوَان کی بَرَکتیں تھیں ۔ راہِ خدا عَزَّوَجَلَّ میں جو بھی سفر کرتا ہے، اُس پر عَزَّوَجَلَّ کی خوب رَحْمتیں نازِل ہوتیں ، مصیبتوں میں بھی عَظَمتیں ملتیں اور رنج وآلام راحتوں میں 
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ  
  ۱       انظر: شرح صحیح مسلم للقاضی عیاض ج۶ ص۳۷۶