جائے اور کوئی حلال چیز ہاتھ نہ آئے یا کوئی شخص حرام کے کھانے پرجَبر کرتا ہو اور اس سے جان کااندیشہ ہو ایسی حالت میں جان بچانے کے لئے حرام چیز کا قدرِ ضَرورت یعنی اتنا کھالینا جائز ہے کہ خوف ہلاکت نہ رہے۔(بلکہ اتنا کھانا فرض ہے)
اَمیْنُ الاُمَّۃ
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! صَحابۂ کرام عَلَيهِمُ الرِّضْوَان کے جذبے اور وَلولے کے قُربان! ایسی تنگی اور عُسْرَت کہ روزانہ صِرْف ایک کَھجور اور دَرَخْتوں کے پتیّ کھا کر بھی راہِ خدا عَزَّ وَجَلَّ میں دشمنوں سے لڑتے اور اپنی جانیں قربان کرتے تھے۔ یہ اُنہیں کی قربانیوں کا صدقہ ہے جو آج دنیا میں ہر طرف دینِ اسلام کی بہاریں ہیں ، صَحابۂ کرام عَلَيهِمُ الرِّضْوَان نے راہ خدا کے ہر سفر میں بڑھ چڑھ کر حصّہ لیا خواہ وہ دشمنوں کے مقابلے میں قتال(یعنی جنگ) کا مُعامَلہ ہو یا علم ِدین سیکھنا اور سکھانا مقصود ہو۔ علم دین سیکھنے سکھانے کے لئے ہمیں بھی راہِ خدا میں سفر کا ذہن بنانا چاہئے اور دعوتِ اسلامی کے مدنی قافلوں میں سنّتوں بھرا سفر کر کے اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں کی اصلاح کی کوشِش کرنی چاہئے۔ابھی جو حِکایت آپ نے مُلاحَظہ فرمائی اِس مُہِم کانام’’ سِیْفُ البَحْر‘‘ ہے، تین سو جانبازوں کی فوج کے سِپَہ سالار حضرتِ سیِّدُنا ابو عُبَیدہ بِن جَرّاح رضی اللہ تعالی عنہ’’عَشَرَۂ مُبَشَّرہ‘‘ سے تھے ۔ بارگاہِ رسالت صَلَّی اللہ تعالٰی علیہ وَاٰلِہ وسلَّم سے ان کو ’’اَمینُ الْاُمَّۃ‘‘(یعنی اُمّت کاامانت دار)کاپیارالقب عنایت ہوا تھا ۔ ابتِدائے اسلام میں حضرتِ سیِّدُنا ابوبکْر صِدِّیق رضی اللہ تعالی عنہ کی انفِرادی کوشِش کے نتیجے