Brailvi Books

مچھلی کے عجائبات
26 - 55
مُردار قرار دیا مگر پھر اپنے اِجتِہاد سے حالتِ اضطِرار کی بِنا پر اسے کھانے کا حکم دیا لیکن ان کا مچھلی کومُردار گمان کرنا (اجتِہادی خطا تھی)اسی بِنا پرسرکارِ نامدار صَلَّی اللہ تعالٰی علیہ وَاٰلِہ وسلَّم نے حالتِ اضطِرار نہ ہوتے ہوئے بھی اِسے تناوُل فرمایا۔ شارحِینِ حدیث نے سرورِ کائنات صَلَّی اللہ تعالٰی علیہ وَاٰلِہ وسلَّم کی طرف سے اس مچھلی کے کھائے جانے کے سلسلے میں مختلف نِکات ارشاد فرمائے ہیں مَثَلاً یہ غیبی رِزق اور بَرَکت والا گوشت تھا اِس لئے  ،محبوبِ رب،تاجدارِعَرَب صَلَّی اللہ تعالٰی علیہ وَاٰلِہ وسلَّم نے اسے طلب فرما کر تناوُل فرمایا ، وَغَیر ذٰلِک، اس نکتے کے ساتھ ساتھ عین ممکن ہے کہ  حضرت سیِّدُنا ابو عُبَیدہ رضی اللہ تعالی عنہ (کی اجتِہادی خطا دور کرنے)کے لئے غیب دان آقا  صَلَّی اللہ تعالٰی علیہ وَاٰلِہ وسلَّم نے بطور ِخاص اس مچھلی کا گوشت تناوُل فرمایا تا کہ ان کو اور دیگر حضرات کو اس کے حلال ہونے کا علم ہو جائے۔

حالتِ اِضطرار کیا ہے؟
سُوال:اِس سوال جواب میں ’’حالتِ اِضطرار ‘‘ کا تذکرہ کیاگیا ہے۔براہِ کرم !اس کی کچھ وضاحت کر دیجئے۔
جواب: حالتِ اِضطرار کی تفصیل’’ تفسیر خزائن العرفان ‘‘ صفحہ 56سے ملاحظہ ہو:مُضطَر وہ ہے جو حرام چیز کے کھانے پر مجبور ہو اور اس کو نہ کھانے سے خوفِ جان( یعنی جان چلی جانے کا خوف) ہو خواہ تو شدّت کی بھوک یا ناداری کی وجہ سے جان پر بن