اللہ ربُّ العزّتعَزَّوَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور اُن کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو۔
آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلَّم
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ایک اشکال اور اس کا جواب
سُوال: اس حدیثِ پاک میں جو یہ آیا کہ حضرت سیِّدُنا ابو عُبَیدہ رضی اللہ تعالی عنہ نے پہلے تو اس مچھلی کو مردارکہا پھر حالتِ اضطِرار قرار دے کر تناوُل بھی فرمایا، یہاں تک تو مسئلہ واضِح ہے اور اس کی گنجائش بھی ہے لیکن حدیثِ مبارَکہ میں آگے چل کر یہ بھی ہے کہ رسولِ اکرم،نُورِ مُجَسَّم، شاہِ بنی آدم صَلَّی اللہ تعالٰی علیہ وَاٰلِہ وسلَّم نے بھی اس مچھلی سے کچھ تناوُل فرمایا حالانکہ سرکارِ والا تَبار صَلَّی اللہ تعالٰی علیہ وَاٰلِہ وسلَّم تو حالتِ اِضطرار میں نہیں تھے اس کا کیا جواب ہو گا؟
جواب:جواباً دارالافتاء اہلسنت کے ایک مفتی صاحب کی تحقیق چند الفاظ کے ردّ وبدل کے ساتھ پیش کی جاتی ہے: مچھلی ایسا جانور ہے جس کے ذَبح کی حاجت نہیں ہوتی ۔ حضرت سیِّدُنا ابو عُبَیدہ رضی اللہ تعالی عنہ کو اس کے حلال ہونے کا علم نہیں تھا یا پھر یہ کہ ملنے والی مچھلی ایسی تھی جو سَمُندر کے کَنارے پڑی ہوئی ملی تھی، اِسے باقاعِدہ شکار نہیں کیا گیا تھا اِس بِنا پرمزید شُکُوک پیدا ہوئے اور اُنہوں نے اِس مچھلی کو