Brailvi Books

مچھلی کے عجائبات
24 - 55
نہیں بلکہ ہم رسول اللہ صَلَّی اللہ تعالٰی علیہ وَاٰلِہ وسلَّم کے بھیجے ہوئے ہیں اور ہم   راہِ خدا عَزَّ وَجَلَّ میں (گھروں سے نکلے)ہیں اورآپ حضرات اِضْطِراری حالت میں ہیں اِس لیے (اسے)کھا لیجئے۔ہم نے ایک مَہِینااس پر گُزارہ کیا اور ہم 300 (آدمی) تھے حتّٰی کہ ہم فَربِہ(یعنی تگڑے) ہو گئے۔ مجھے یاد ہے کہ ہم اُس کی آنکھ کے گڑھے سے مٹکے بھر بھر کر چَربی نکالتے اور اُس (مچھلی) سے بیل جتنے بڑے بڑے ٹکڑے کاٹتے۔ (اس مچھلی کی آنکھ کا حلقہ اتنا بڑا تھا کہ) حضرت سیِّدُنا ابو عُبَیدہ رضی اللہ تعالی عنہ نے ہم میں سے تیرہ آدمیوں کو اُس کی آنکھ کے گڑھے میں بٹھا دیا(تو سب سما گئے)۔ اُس کی ایک پسلی(کمان کی طرح )  کھڑی کی پھر ایک بڑے اُونٹ پر کَجَاوہ کسا اور وہ اس(پسلی کی کمان) کے نیچے سے گزر گیا اور ہم نے اس کے خشک گوشت کے ٹکڑے بطورِ زادِ راہ ساتھ رکھ لئے۔ جب ہممدینۃُالمنوَّرہ زادَھَا اللہُ شَرَفًاوَّ تعظیمًا پہنچے تو مصطَفٰے جانِ رَحمت صَلَّی اللہ تعالٰی علیہ وَاٰلِہ وسلَّم کی خدمتِ با بَرَکت میں حاضِر ہوئے اور  اس کا ذِکْر کیا تو آپ صَلَّی اللہ تعالٰی علیہ وَاٰلِہ وسلَّم نے فرمایا: وہ رِزْق تھا جو اللہ تَعَالٰی نے تمہارے لیے پَیدا فرمایا، کیا تمہارے پاس اُس گوشت میں سے کچھ ہے؟ (اگر ہو تو)ہمیں بھی کِھلاؤ۔ ہم نے حضُور رِسالت مآب صَلَّی اللہ تعالٰی علیہ وَاٰلِہ وسلَّم کی جناب میں اُس مچھلی کا گوشْت بھیجا تو آپ صَلَّی اللہ تعالٰی علیہ وَاٰلِہ وسلَّم نے تناوُل فرمایا۔	  (مسلم ص ۱۰۷۰ حدیث ۱۹۳۵ مُلَخَّصاً )