جائے گا تو شاید آپ کو اِ س طریقے کا مچھلی کا سالن بَہُت پسند آئے گا۔
سرکارِ مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے مچھلی کھائی
سُوال: کیا سلطانِ مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے مچھلی کھانا ثابت ہے ؟
جواب:جی ہاں ۔
قد آور مچھلی
حضرتِ سیِّدُنا جابِر بن عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہما فرماتے ہیں ،رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ہمیں کُفّارِ قُریش کے مقابَلے پر بھیجا اور حضرتِ سیِّدُنا ابو عُبَیدہ رضی اللہ تعالی عنہکو ہماراسِپہ سالار(یعنی کمانڈر)مقرَّر فرمایا اور ہمیں کَھجوروں کی ایک بوری بطورِ زادِ راہ عنایت فرمائی۔اس کے سوا کوئی اورچیز نہیں تھی جو ہمیں دیتے،حضرتِ سیِّدُنا ابوعُبَیدہ رضی اللہ تعالی عنہ ہمیں (روزانہ) ایک ایک کَھجور عطافرماتے ۔ کہاگیا: آپ حضرات رضی اللہ تعالی عنہم ایک کَھجور سے کیسے گزار ہ کرتے تھے ؟ فرمایا : ہم اس کو بچّے کی طرح چُوستے اور اُوپر سے پانی پی لیتے تو وہ اُس روز رات تک ہمیں کافی ہو جاتی۔ ہم اپنی لاٹھیوں سے دَرَخْتْ کے پتّے گِراتے اور انھیں پانی میں بِھگو کرکھا لیتے۔ اس کے بعد ہم ساحل سمندر پر پہنچے تو وہاں بڑے ٹیلے کے مانند ایک بہت بڑی مچھلی پڑی تھی، جسیعَنبرکہا جاتا ہے،حضرتِ سیِّدُنا ابو عُبیدہ رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا: یہ مُردار ہے، پھر خود ہی فرمایا: