Brailvi Books

مچھلی کے عجائبات
21 - 55
’’ اس کا حق یہ ہے کہ ذَبح کرے اور کھائے یہ نہیں کہ سرکاٹے اور پھینک دے ۔‘‘
(مسند امام احمد بن حنبل ج۲ ص ۵۶۷ حدیث۶۵۶۲، نَسائی ص۷۷۰حدیث۴۳۵۵)
 
مچھلی کی ھڈیا ں کھا سکتے ہیں یا نہیں ؟
سُوال: مچھلی کی ہڈِّیاں کھاسکتے ہیں یا نہیں ؟
جواب: کھاسکتے ہیں ۔ مچھلی کی ہڈِّیاں عُمُوماًسخت ہوتی ہیں اور کھائی نہیں جا تیں ۔ مگر بعض کی چَبنی یعنی کُرکُری اورمُلائم ہوتی ہیں ۔مثلاً سَمُندر کے پاپلیٹ اور سُرمئی مچھلی وغیرہ کی ہڈِّیاں نرم اور لذیذ ہوتی ہیں ان کو خو ب چبایئے اور اچّھی طرح چوس کر بچا ہوا چُورا پھینک دیجئے۔فتاوٰی رضویہ میں ہے: ’’جانور حلال مذبوح کی ہڈّی کسی قسم کی مَنْع نہیں جب تک اس کے کھانے میں مَضَرَّت(یعنی نقصان) نہ ہو ،اگر ہو تو ضَرَر کی وجہ سے مُمانَعَت ہوگی ،نہ کہ اس لئے کہ ہڈی خود ممنوع ہے۔ ‘‘    					(فتاوٰی رضویہ ج۲۰ ص۳۴۰)

مچھلی کی کھال کھانا کیسا؟
سُوال: مچھلی کی کھال کھا سکتے ہیں یا نہیں ؟
جواب:کھا سکتے ہیں ۔عُمُوماً لوگ مچھلی کی کھال پہلے ہی سے یا پکنے کے بعد نکال کر پھینک دیتے ہیں ایسا نہ کیا جائے ،اگر کوئی مجبوری نہ ہو تومچھلی کی کھال بھی کھا لینی چاہئے، کہ یہ بھی اللہُ ربُّ العزّت کی نعمت ہے اور بعض مچھلیوں کی کھال تونہایت لذیذ ہوتی ہے۔ہاں کسی مچھلی کی کھال سخت ہو اور چبانے میں نہ آتی ہو تو پھینکنے میں حرج نہیں ۔