مر کر اُلَٹ گئی ہے ۔ ہاں اگر بم پھوڑنے سے مچھلی میں کوئی سَمیّت (سَمْ۔مِیْ۔یَت یعنی زہریلا پن ) یامُضِر(یعنی نقصان دِہ) کیفیت پیدا ہوتو اس کے باعث اُس کا کھانا ممنوع ہو گا۔ وَاللہُ تَعالٰی اَعلَم {۲}بم دھماکے سے اگر دوسرے غیر مُوذی (یعنی ایذا نہ دینے والے) جانور نہ مریں نہ انہیں اِیذا پہنچے تو شکارکا یہ طریقہ جائز ورنہ اُن(غیر مُوذی جانوروں ) کے قتل وا یذا سے مَنْفَعَت وابَستہ(یعنی ان کو مارنے یا تکلیف پہنچانے سے فائدہ) نہ ہونے کی وجہ سے(شکا رکا یہ طریقہ) ناجائز ہے کہ یہ غیر مُوذی جانوروں پر ظلم ہے ۔ وَاللہُ تَعالٰی اَعلَم۔
جال میں غیر مُوذی جانور پھنس جائیں تو؟
سُوال: جال میں مچھلی کے ساتھ ساتھ غیر مُوذی جانورمَثَلاً کیکڑے وغیرہ بھی پھنس جاتے ہیں کیا ان کو مرنے دیا جائے؟
جواب :اس سلسلے میں جامعہ اشرفیہ مبارکپور شریف (الھند) کے دارالافتاء کافتویٰ یہ ہے: جال سے مچھلی کا شکار کرنا جائز ہے، اگر جال میں مچھلی کے علاوہ دوسرے غیر موذی جانور پھنس جائیں تو انھیں جال سے نکال کر دریا میں ڈال دیں ، کیونکہ انھیں بِلاوجہ شَرْعی مارنا جائز نہیں ۔ حدیث میں ہے حضورِاقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا : جس نے چڑیا یا کسی جانور کو ناحق قَتْل کیا اُس سے اللہ تَعَالٰی قِیامت کے دن سوال کرے گا ، عرض کیا گیا:یا رسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ! اُس کا حق کیا ہے ؟ فرمایا کہ :