Brailvi Books

مچھلی کے عجائبات
18 - 55
 نہیں کھائی جائے گی، اور امام محمد رَحْمَۃُاللہِ تعالٰی علیہ سے روایت ہے کہ اُس مچھلی کے بارے میں جوکُتّے کے پیٹ سے(قے میں ) نکلے کہ اُس کے کھانے میں کوئی حَرَج نہیں جبکہ اس کی حالت مُتَغَیَّر(یعنی تبدیل شدہ) نہ ہوکیونکہ اس کی موت ’’سبب‘‘ سے ہوئی ہے۔(محیط برہانی ج۶ ص۴۴۹ )(طافی: اُس مچھلی کو کہتے ہیں جو بِغیر کسی ظاہری سبب کے خود بخود مرکر دریا میں اُلٹی تیر جائے)
مچھلی کے انڈے 
سُوال:مچھلی کے انڈے کھا سکتے ہیں یا نہیں ؟
جواب: کھا سکتے ہیں ۔ بڑے سائز کے انڈے بھی ہوتے ہیں مگر ہزاروں لاکھوں کی تعداد میں خشخاش کے دانوں کی طرح  باریک پیلے رنگ کے انڈے جن پرقُدرَتی جِھلّی چڑھی ہوئی ہوتی ہے وہ کافی لذیذ ہوتے ہیں ، اِس کو ’’آنی ‘‘بھی بولتے ہیں ، جب کبھی آپ اپنی مچھلی کٹوا ئیں تو کاٹنے والے کوبول دیجئے کہ اگر انڈے نکلیں تو ہمیں دیدیں ، کیوں کہ عُمُوماً اُجرت پر مچھلی کاٹنے والے مچھلی کے انڈے آلائشوں کے ساتھ ڈالدیتے ہیں ،پھرنکال کربیچتے ہیں ،ان کو بھی چاہئے کہ ایسانہ کیا کریں ،جس کی مچھلی ہے اُسے دیدیا کریں ۔

پانی میں کیمیکل کے ذَرِیعے مچھلیاں مارناکیسا؟
سُوال:نہر اور تالاب میں کیمیکل ڈال کر یا کرنٹ چھوڑ کر مچھلیاں مار کر شکارکرناکیسا؟