میں وہ مری ہوئی مچھلی حلال ہے۔‘‘ ( ایضاً،دُرِّمُختارو رَدُّالْمُحتارج۹، ص ۵۱۲) الغرض صرف وُہی مچھلی حرام ہے جو بِغیر کسی ظاہِری سبب کے پانی میں طَبْعی موت (یعنی خود بخود ) مر کر اُلٹی تَیر جائے ۔
پرندے کی چونچ سے مچھلی چھوٹ کر گری۔۔۔۔
سُوال:پرندہ مچھلی کا شکار کر کے اُڑا، مچھلی اُس سے چھوٹ کر گری، دیکھا تو مری ہوئی تھی، کھائی جائے گی یانہیں ؟
جواب: کھائی جائے گی کیوں کہ موت کا سبب پرندہ بنا، طبعی موت نہیں مری۔
مچھلی کے پیٹ سے اگر مچھلی نکلے تو؟
سُوال: بڑی مچھلی خریدکر جب کاٹی تو اُس کے پیٹ میں سے چھوٹی مچھلی نکلی ،پیٹ سے نکلی ہوئی مچھلی کھا سکتے ہیں یا نہیں ؟
جواب:پیٹ سے نکلی ہوئی مچھلی میں اگرمعمول کے مطابِق سختی موجود ہے( یعنی FRESH) ہے تواُسے بھی کھا سکتے ہیں اور اگر اس میں تَغَیُّر آ چکا ہے یعنی نرم پڑ کر سخت بدبودار ہو چکی ہے تو نہیں کھا سکتے۔فُقَہائے کرام رَحمَہُمُ اللہُ السَّلام فرماتے ہیں ،’’مُحیط بُرہانی ‘‘ میں ہے: ’’مچھلی کا شکار کیا اور اس کے پیٹ میں دوسری مچھلی نکلی تو اسے بھی کھایا جائے کیونکہ یہ پہلی مچھلی کے پکڑنے اور دوسری جگہ کی تنگی(یعنی پیٹ کے اندر دَم گھٹ جانے) کی وجہ سے مری ہے۔ اور یہ مسئلہ دلالت کرتا ہے کہ اگر طافی مچھلی کے پیٹ میں سے دوسری (فریش )مچھلی پائی گئی تو وہ کھائی جائے گی اور اگر وہ بھی طافی ہو تو