محمد غزالی علیہ رحمۃ اللہ الوالی نَقْل کرتے ہیں:بنی اسرائیل کا ایک مغرورآدَمی اپنے بند کمرے میں کسی کے ساتھ تنہائی میں تھاکہ اتنے میں ایک شخص اُس کی طرف ایک دم لپکا۔ اُس مغرور نے کہا:اندر داخِلے کی تمہیں کس نے اجازت دی اور تم ہو کون؟ نَو وارِد نے کہا : مجھے اِس گھر کے مالک نے اجازت دی اور میں وہ ہوں جسے کوئی دربان نہیں روک سکتا ، مجھے بادشاہوں سے بھی اجازت لینے کی ضَرورت نہیں ہوتی ، نہ مجھے کسی کا دبدبہ ڈرا سکتا ہے، نہ ہی مجھ سے کوئی مغر ور وسرکش بچ سکتا ہے۔ یہ سُن کر وہ مغرورآدمی خوف سے تھرّاتا ہوا منہ کے بل گر پڑا، پھر انتہائی ذلّت کے ساتھ منہ اُٹھا کر بولا : آپ مَلَکُ الْمَوت عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام معلوم ہوتے ہیں !فرمایا: ہاں میں مَلَکُ الْمَوت ہوں۔ اُس نے عرض کی:کیا مجھے مُہْلَت مل سکتی ہے تا کہ توبہ کر کے نیکیوں کا عَہْد کروں؟ فرمایا: نہیں، تمہارے سانس پورے ہوچکے ہیں ۔بولا : مجھے کہاں لے جائیں گے؟ فرمایا:''اُس مقام پر جہاں تُو نے اعمال بھیجے ہیں، اور اُس گھر کی طرف جوتُو نے تیّار کیا ہے ۔'' کہا :