Brailvi Books

کفریہ کلِمات کے بارے میں سوال جواب
450 - 692
فرماتے ہیں: اگر  وہ مَیلہ اُن کا مذہبی ہے جس میں جمع ہو کر اعلانِ کفر وادائے رُسُومِ شرک کرینگے تو بقصدِ تجارت جانا بھی ناجائز و مکروہِ تحریمی ہے، اور ہر مکروہِ تحریمی صغیرہ اور ہر صغیرہ اِصرار سے کبیرہ ۔ مزید آگے چل کر جواز کی صورت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:اور اگر مجمع مذہبی نہیں بلکہ صِرف لَہو ولَعِب کا مَیلہ ہے تو محض بغرضِ تجارت جانا فی نَفسِہٖ ناجائز و ممنوع نہیں جبکہ کسی گناہ کی طرف مُؤَدّی(یعنی گناہ کی جانب لے جانے والا)نہ ہو۔یہ جواز بھی اُسی صورت میں ہے کہ اسے وہاں  جانے میں کسی معصیَّت(گناہ) کا ارتِکاب نہ کرنا پڑے۔ مَثَلاً جلسہ ناچ رنگ کاہو اور اسے اُس سے دُور وبَیگانہ موضِع میں(یعنی دور الگ تھلگ)جگہ نہ ہو تو یہ جانامُسْتَلْزِمِ معصیَّت(یعنی معصیَّت وگناہ کو لازم کرنے والا)ہو گا اور ہرمَلزُومِ معصیَّت، معصیَّت(یعنی جس کام یا طریقِ کار سے معصیَّت لازم آئے وہ خود معصیَّت ہے ) اور جانا محض بغرضِ تجارت ہو نہ کہ تماشا دیکھنے کی نیّت (سے)،کہ اس نیّت سے مُطلَقًا ممنوع اگر چِہ(وہ تقریب) غیر مذہبی ہو۔ اس لئے کہ ان کی عِیدیں او ر مجلسیں بد ترین