جواب :کافروں کے مَحَلّوں وغیرہ میں(1)اگر کسی گناہ کا ارتکاب نہ کرنا پڑے مثلاوہاں ناچ رنگ کی محفل نہ ہو (2)ان کا کوئی مذہبی تہوار نہ ہو(3)یا وہاں ان کے کسی میلہ وغیرہ تماشا دیکھنے کی نیت نہ ہوتو ان صورتوں میں بغرض تجارت اور دیگر دُنیوی کاموں کیلئے آنا جانا جائز ہے لیکن پھر بھی مکروہ تنزیہی ضَرور ہے اور بچنا بہتر ہے کہ کافِروں کے مَحَلّوں اور گھروں سے دُوررہنے اور وہاں سے جلد گزرجانے ہی میں عافیَّت ہے۔
کافروں کے میلوں میں تجارت کیلئے جانا
سُوال:کیاکُفّار کے مَیلوں میں کاروبار کرنے جا سکتے ہیں یا نہیں؟
جواب :کفّار کے میلوں میں بغرضِ تجارت جانے کے مُتَعَلِّق پوچھے جانے والے سُوال کا جواب دیتے ہوئے میرے آقا اعلیٰ حضرت ، اِمامِ اَہلسنّت ، مولیٰنا شاہ امام اَحمد رضا خان عليہ رحمۃُ الرَّحمٰن