Brailvi Books

کفریہ کلِمات کے بارے میں سوال جواب
448 - 692
مُرتد کے پاس نوکری کی وجہ سے بھی)نہ ہوگامگر یہ کہ اُس کے مذہب وعقیدہ ٔ  کُفر پر مُطَّلَع ہو کر اُس کے کفر میں شک کرے تو البتّہ کافر ہو جائے گا ۔ بِغیرثُبُوتِ وجہِ کُفر کے مسلمان کو کافر کہنا سخت عظیم گناہ ہے بلکہ حدیث میں فرمایا کہ وہ کہنا اُسی کہنے والے پر پلٹ آتا ہے ۔ وَالعِیاذ بِاللہ تَعالٰی۔ وَاللہُ تَعالٰی اعلم۔
(فتاوٰی رضویہ ج23ص 591،592)
کافروں کے مَحَلّے سے جلدی گزر جایئے!
سُوال:کافروں کی دُنیوی مجالس(بیٹھکوں) میں شریک ہونا کیسا؟
جواب :میرے آقا اعلیٰ حضرت، اِمامِ اَہلسنّت ، مولیٰنا شاہ امام اَحمد رَضا خان عليہ رحمۃُ الرَّحمٰن فرماتے ہیں: (کافروں کی مجالس)ہر وَقت مَعاذَاللہ مَحَلِّ نُزولِ لعنت ہیں(یعنی ان لوگوں کی بیٹھکیں ہر وقت لعنتیں اُترنے کے مواقِع ہیں)تو اُن سے دُوری بہتر، یہاں تک کہ عُلَماء فرماتے ہیں:اُن کے مَحَلّہ میں ہو کر گزر ہو تو شِتابی کرتا ہو ا (یعنی جھٹ پٹ)نکل جائے۔''وہاں آہِستہ چلنا نا پسند رکھتے ہیں تو رُکنا ٹَھَہرنا بَدَرَجۂ اَولیٰ مکروہ۔
(فتاویٰ رضویہ ج23 ص 525)
 یہاں مکروہ سے مُراد مکروہِ تنزيہہ ہے
(اَیضاً ص 526)
 البتّہ ان کی عبادت گاہوں میں جانا
Flag Counter