Brailvi Books

کفریہ کلِمات کے بارے میں سوال جواب
447 - 692
لیے وہی جائز ہے جس میں اسلام اور مسلم کی ذلت نہ ہو ۔
(فتاوٰی رضویہ ج21ص 121)
 بَہرحال کافِر کے یہاں ذلت کی نوکری جیسے اُس کے پاؤں دبانا، اُس کے یہاں گند(کچرا)اٹھانا ، گندی نالیاں صاف کرنا وغیرہ جائز نہیں۔
مُرتَد کے یہاں مُلازَمت کر سکتے ہیں یا نہیں؟
سُوال:کیا مُرتد کے یہاں مُلازَمت کر سکتے ہیں ؟مُرتَد کی نوکری کرنے والے کو کافِر کہنا کیسا؟
جواب:مُرتَد کے یہاں نوکری نہیں کر سکتے۔ مگر نوکری کرنے والا اِس سے کافِر نہیں ہو جاتا۔چُنانچِہ میرے آقا اعلیٰ حضرت ، اِمامِ اَہلسنّت ، مولیٰنا شاہ امام اَحمد رضا خان عليہ رحمۃُ الرَّحمٰن فرماتے ہیں:کافِر اصلی غیرِمُرتَد کی وہ نوکری جس میں کوئی اَمر ناجائزِ شرعی کرنا نہ پڑے جائز ہے اور کسی دُنیوی مُعامَلہ کی بات چیت اُس سے کرنا اور اس کے لئے کچھ دیر اُس کے پاس بیٹھنا بھی منع نہیں ۔اِتنی بات پر(کسی مسلمان کو)کافِر بلکہ فاسق بھی نہیں کہا جا سکتا ۔ ہاں مُرتَد کے ساتھ یہ سب باتیں مُطلَقاً منع ہیں اور کافِر اُس وقت بھی(یعنی
Flag Counter