جواب:حَرام ہے اور اگر ان کے تَہوار کی تعظیم کی نیّت ہو تو کُفر۔ چُنانچِہ میرے آقااعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:نَیر وز ، مہر گان (آتَش پرستوں کے تَہوار)کے نام پر تحائف کا دینا حرام اور کافِروں کے تَہواروں کی تعظیم مقصود ہو تو کُفر ہے۔
(فتاوٰی رضویہ ج 14 ص 673مُلَخَّصاً)
فُقَہائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلام فرماتے ہیں:جس نے نَیروز (یعنی آتَش پرستوں کی عید نَوروز)کے دن مَجوسیوں (یعنی آگ کی پوجا کرنے والوں)کی طرف (اس دن کی تعظیم کی نیّت سے)کوئی تحفہ مَثَلاً فَقَط انڈا بھی اگر بھیجا تو اُس نے
کُفرکیا ۔
جس نے کافِروں کے تَہوار کی تعظیم کے لئے کوئی کام کیا مَثَلاً کوئی شے خریدی اُس پر حکمِ کُفْر ہے۔
(فتاوٰی قاضی خان ج 2ص469۔470 ملخَّصاً)
صدرُ الشَّریعہ،بدرُ الطَّریقہ حضرتِ علامہ مولیٰنامفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ القوی