ہے۔اس مسئلہ کومیرے آقااعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے مبارَک فَتوے کے اِس اِقتباس سے سمجھئے چُنانچِہ فرماتے ہیں:جو مُرتکِبِ کُفرِ فِقہی ہے جیسے دَسہرے کی شرکت یا کافِروں کی جَے بولنا اس پر تجدیدِ اسلام لازِم ہے اور اپنی عورت سے تجدیدِ نکاح کرے اور جو قَطعاً کافِر ہو گیا جیسے دَسہرے میں بطورِمذکور ہُنُود(1)کے ساتھ ناقوس(یعنی سَنکھ جو کہ ہِنْدُو پُوجا کرتے وقت بجاتے ہیں)بجانے یا مَعبُود انِ کُفّار پر پھول چڑھا نے والا کافِر مُرْتَد ہو گیا، اُس کی عورت نِکاح سے نکل گئی ،اگر تائب ہو اور اسلام لائے جب بھی عورت کو اِختیار ہے بعدِ عدّت جس سے چاہے نِکاح کر لے ۔اور (مُرتَد)بے توبہ مر جائے تو اسے مسلمانوں کی طرح غسل و کفن دینا حرام، اس کے جنازے کی شرکت حرام، اسے مَقابِرِمُسلمین (یعنی مسلمانوں کے قبرِستان ) میں دَفن کرنا حرام ،اس پر(جنازہ کی)نَماز پڑھنا حرام ۔