جواب: بِغیر مصلحتِ شرعی مُرتد کو تعویذ نہ دیا جائے۔میرے آقا اعلیٰ حضرت ، اِمامِ اَہلسنّت،مولیٰناشاہ امام اَحمد رضا خان عليہ رحمۃُ الرَّحمٰن فرماتے ہیں:(جو کافر یا مُرتَد)مسلمان کو ایذا دیا کرتا ہو اگر چِہ رسائل کی تحریر یا مذہبی تقریر سے، اُس پر سے دَفعِ بلا خواہ رَفعِ مرض کا بھی نقش نہ دیا جائے۔ اور ایسا نہ ہو(یعنی مسلمان کو ایذا نہ دیتا ہو)اور اُس کا م(یعنی تعویذ دینے)میں کسی مسلمان کا ذاتی نقصان بھی نہ ہو جب بھی مُرتَدوں کا مُبتَلا ئے بلا ہی رَہنا بھلا۔
(فتاوٰی رضویہ ج 26 ص 608)
سُوال:کُفّار کے مَیلوں اورتَہواروں میں بغیر کسی حاجت کے عام آدمی کا