جواب:اجازت نہیں ہے۔ چُنانچِہ میرے آقا اعلیٰ حضرت،اِمامِ اَہلسنّت ، مولیٰنا شاہ امام اَحمد رَضا خان عليہ رحمۃُ الرَّحمٰن فرماتے ہیں:غیر مذہب والیوں( یا والوں ) کی صُحبت آگ ہے، ذی عِلم عاقِل بالِغ مردوں کے مذہب(بھی)اس میں بگڑ گئے ہیں۔ عمران بن حطان رقاشی کا قصّہ مشہور ہے، یہ تابِعین کے زمانہ میں ایک بڑامُحدِّث تھا ،خارِجی مذہب کی عورت کی صُحبت میں مَعاذَاللہ خود خارِجی ہو گیا اور یہ دعویٰ کیا تھا کہ اُسے سُنّی کرنا چاہتا ہے ۔جب صُحبت کی یہ حالت تو اُستاد بنانا کس دَرجہ بدتر ہے کہ اُستاد کا اثر بَہُت عظیم اور نہایت جلد ہوتا ہے ، تو غیر مذہب عورت(یا مرد) کی سِپُردگی یا شاگِردی میں اپنے بچّوں کو وُہی دے گا جو(خود) آپ (ہی)دین سے واسِطہ نہیں رکھتا اور اپنے بچّوں کے بَددین ہو جانے کی پرواہ نہیں رکھتا۔