Brailvi Books

کرنسی نوٹ کے شرعی احکام
91 - 199
اسی "عالمگیری" میں" ذخیرہ" سے منقول ہے کہ" ایک شخض نے کسی کو چاندی کا روپیہ

دیتے ہوئے کہا کہ نصف روپے کے اتنے پیسے دے دو بقیہ نصف روپے کی اٹھنی(چاندی

کاآدھاروپیہ) دے دو تو یہ جائز ہے، پھر اگر پیسوں اور اٹھنی پر قبضہ کئے بغیر دونوں جدا ہوگئے تو پیسوں میں بیع برقرار ہے اٹھنی کے حصے میں باطل ہوگئی اور اگر روپیہ بھی نہیں دیا تھا ویسے ہی دونوں جدا ہوگئے، تو اٹھنی اور پیسے دونوں میں بیع باطل ہوجائے گی۔
("الفتاوٰی الھندیۃ"، کتاب الصرف،الفصل الثالث في بیع الفلوس، ج۳، ص۲۲۵)
     نیز" عالمگیری" میں" ذخیرہ" کے حوالے سے یہ بھی منقول ہے کہ پیسوں کے بدلے کوئی چیز خریدی اور پیسے دینے کے بعد دونوں جدا ہوگئے پھر بائع نے ان پیسوں میں ایک پیسہ کھوٹا پایا اسے واپس کردیا اور دوسرا پیسہ لے لیا، تو اس صورت میں یہ پیسے اگر کسی متاع کی طے شدہ قیمت
Estimated Cost))
تھے تو عقد
(Contract)
 باطل نہ ہوا، خواہ اس نے تھوڑے پیسے واپس کئے ہوں یا زیادہ، اور ان کھوٹے پیسوں کے بدلے میں دوسرے پیسے لے لئے ہوں یا نہ لئے ہوں، اور اگر وہ پیسے روپوں کی طے شدہ قیمت
(Estimated Cost)
تھے تو اگر خریدار نے روپوں پر قبضہ کرلیا تھا پھر کھوٹا پیسہ واپس کیا گیا اور اس کے بدلے بائع نے کھرا پیسہ لیا یا نہ لیا دونوں صورتوں میں عقد بدستور صحیح ہے، اسی طرح اگر بائع نے تمام پیسے کھوٹے پائے اور واپس لوٹا دیئے اور ان کے بدلے میں کھرے پیسے لے لئے یا ابھی نہیں لئے تو اس صورت میں بھی بیع
Flag Counter