Brailvi Books

کرنسی نوٹ کے شرعی احکام
73 - 199
یہاں "عرب شریف "میں نہیں چلتے، بخلاف نوٹ کے ؛کیونکہ ہندوستان کا نوٹ "عرب "میں بھی چلتا ہے، ہندوستانی نوٹ کا" عرب" کی کرنسی کے مقابلے میں کم قیمت میں بکنا، چلنے کی نفی نہیں کرتا، اور دوسرے شہروں میں نوٹ کا نہ چلنا ،ان شہروں میں نوٹ کے چلن
 (Use)
پر اثر انداز نہیں ہوتاجہاں نوٹ چلتا ہے، بلکہ اسی ذوالحجۃ۱۳۲۳؁ ھ میں اس امان والے شہر"مکہ مکرمہ"ـ میں پانچ سو کے انگریزی نوٹ کو میں نے خود ۳۳ اَشرفیوں اور پانچ روپے میں تبدیل )
(Exchange)
کروا یا، اور یہ رقم پانچ سو کے نوٹ کی پوری قیمت ہے ؛کیونکہ ۳۳ اَشرفیوں کی قیمت چار سوپچانوے۴۹۵ روپے بنتی تھی،اوریہ چارسو پچانوے ۴۹۵ روپے ان پانچ روپوں سے ملکر پورے پانچ سو روپے ہوگئے۔

نیز فقہ کی مشہور کتاب"کفایہ" کے باب بیع الفاسد میں یہ مضمون موجود ہے کہ کوئی چیز مال اس وقت ہوتی ہے جب تمام یا بعض لوگ اسے مال قرار دیں ۔
 ( "الکفایۃ "مع "فتح القدیر"، کتاب البیوع، باب البیع الفاسد، ج۶، ص۴۳ )
اسی طرح (فقہ کی دیگر مستند کتابوں)" فتح القدیر" اور" ردالمحتار" میں "بحر الرائق" اور " کشف کبیر" کے حوالے سے مذکورہے کہ" مال وہ ہوتا ہے جس کی طرف طبیعت مائل ہوتی ہو اور اسے ضرورت کے وقت کے لئے جمع کرکے رکھنا ممکن ہو، اور مالیت کے ثبوت کے لئے تمام یا بعض لوگوں کا اسے مال قرار دینا ضروری ہے "۔
 ("رد المحتار"، کتاب البیوع،مطلب في تعریف المال والملک المتقوّم،ج۷،ص۸)
Flag Counter