کروا یا، اور یہ رقم پانچ سو کے نوٹ کی پوری قیمت ہے ؛کیونکہ ۳۳ اَشرفیوں کی قیمت چار سوپچانوے۴۹۵ روپے بنتی تھی،اوریہ چارسو پچانوے ۴۹۵ روپے ان پانچ روپوں سے ملکر پورے پانچ سو روپے ہوگئے۔
نیز فقہ کی مشہور کتاب"کفایہ" کے باب بیع الفاسد میں یہ مضمون موجود ہے کہ کوئی چیز مال اس وقت ہوتی ہے جب تمام یا بعض لوگ اسے مال قرار دیں ۔
( "الکفایۃ "مع "فتح القدیر"، کتاب البیوع، باب البیع الفاسد، ج۶، ص۴۳ )
اسی طرح (فقہ کی دیگر مستند کتابوں)" فتح القدیر" اور" ردالمحتار" میں "بحر الرائق" اور " کشف کبیر" کے حوالے سے مذکورہے کہ" مال وہ ہوتا ہے جس کی طرف طبیعت مائل ہوتی ہو اور اسے ضرورت کے وقت کے لئے جمع کرکے رکھنا ممکن ہو، اور مالیت کے ثبوت کے لئے تمام یا بعض لوگوں کا اسے مال قرار دینا ضروری ہے "۔
("رد المحتار"، کتاب البیوع،مطلب في تعریف المال والملک المتقوّم،ج۷،ص۸)