| کرنسی نوٹ کے شرعی احکام |
لہٰذا ثابت ہوا کہ لوگوں کے نزدیک نوٹ ایک قیمت والا مال ہے، اسے حفاظت سے رکھا اور جمع کیا جاتا ہے، اور لوگ اس کی طرف مائل ہوتے ہیں، اس کی خرید و فروخت ہوتی ہے، اور اس پر قیمت والے مال کے تمام احکام نافذ ہوتے ہیں۔
کرنسی نوٹ کی اعلیٰ قیمتوں کا بیان
جہاں تک نوٹ کی اعلیٰ قیمتوں کا تعلق ہے، مثلاً ایک کا غذ کا ٹکڑا دس روپے کا، دوسرا سو روپے اور تیسرا ہزار کا، تو میں اس کے بارے میں یہ کہوں گا کہ ہم "فتح القدیر" کے حوالے سے بیان کرچکے ہیں کہ ـ"کاغذ کا ایک ٹکڑا ہزار روپے میں بیچا جاسکتا ہے اور اس کے جائز ہونے کے لئے فقط خریدار اور فروخت کنندہ کا راضی ہونا ہی کافی ہے" پھر نوٹ کے تو کیا کہنے کہ جس کے طریقہ استعمال پر تمام لوگ راضی ہوں،اور کاغذ کے ان ٹکڑوں کی یہ قیمت اپنی اصطلاح میں مقرر کرلیں، نیز گورنمنٹ اسٹامپ شرعِ مطہر کے نزدیک بھی قابلِ قدر ہے، کیا آپ نہیں دیکھتے کہ اگر کسی شخص نے مہر والے چاندی کے دس روپے
(Old Currency)
چرائے تو اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا، حالانکہ اگر کوئی شخص دس دِرہم کے وزن کے برابر چاندی جس پر مہر نہ لگی ہو اور اس کی قیمت دس درہم سے کم ہو چوری کرے تو اس کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا (۱) جیسا کہ "ہدایہ" اور عامہ کتب
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ۱۔۔۔۔۔۔ گویا درہموں میں موجود چاندی جو دراصل ۱۰ درہم سے کم کی ہے لیکن مُہر لگنے سے اُس کم قیمت چاندی کی قیمت دس درہم مان لی گئی، اسی طرح کاغذ کے ایک ٹکڑے کی قیمت بالفرض ایک روپیہ ہے لیکن اس پر مُہر لگنے سے اس کی قیمت مثلاً ۱۰۰۰ روپے مان لی جائے تو یہ درست ہے اور اب شرع =