Brailvi Books

کرنسی نوٹ کے شرعی احکام
30 - 199
    جیساکہ امام سراج الدین عمر ابن نجیم حنفی رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں:
    ''صح أیضاً بیع (شحم البطن بالألیۃ)مخففۃ(أوباللحم) متفاضلاً؛لأنھا وإن کانت کلھا من الضأن إلّا أنھا أجناس مختلفۃ لاختلاف الأسماء والمقاصد''۔
 (''النھر الفائق''،کتاب البیوع، باب الربا،ج۳ ،ص ۴۷۸)
    ترجمہ:'' پیٹ کی چربی کو چکتی کی چربی اور گوشت کے بدلے میں کمی بیشی کے ساتھ بیچنا بھی جائز ہے،؛کیونکہ یہ سب اشیاء اگرچہ دنبے ہی سے ہیں مگر نام اور مقصود کے مختلف ہونے کی وجہ سے مختلف جنس ہیں''۔

    چنانچہ اسی طرح ہر ملک کی کرنسی کی اصل تو کاغذ ہی ہے مگر ان کے نام ،صفت اورمقاصدکے مختلف ہونے کی و جہ سے مختلف اجناس ہیں۔
ایک اہم مسئلہ
     چنانچہ جب یہ بات واضح ہوچکی کہ ہرملک کی کرنسی ایک علیحدہ جنس ہے تو یہ بھی یاد رہے کہ فی زمانہ رائج نوٹ فلوس ( یعنی تانبے اور پیتل کے سکوں) کے حکم میں ہیں۔ اور قوانین شرعیہ کی رو شنی میں ایک ہی ملک کے سکوں کی آپس میں کمی بیشی کے ساتھ خرید و فروخت جائز ہے، البتہ! ادھار ناجائز ہے۔جیساکہ فقہ حنفی کی مشہور و معروف کتاب 

'' ہدایہ شریف " میں ہے:
''یجوز بیع الفلس بفلسَین بأعیانھما''۔
        ("الھدایۃ"،کتاب البیوع ، باب الربا،الجزء الثالث ،ص ۶۳)
ترجمہ: "ایک متعین سکے کی بیع دومتعین سکوں کے ساتھ جائزہے"۔

اسی طرح ''کنزالدقائق "،'' فتح القدیر "،'' عنایہ " ،'' کفایہ"،''البحرالرائق''،
Flag Counter