Brailvi Books

کرنسی نوٹ کے شرعی احکام
24 - 199
بڑھتی گئی، یہاں تک کہ ان نوٹوں کے مقابلے میں سونے کی مقدار حکومت کے پاس انتہائی کم ہوگئی۔ 

    اور اب حکومتوں کویہ فکرلاحق ہوگئی کہ اگر لوگوں نے ان نوٹوں کے بدلے سونے کا مطالبہ کیا تو ان کے مطالبے کیسے پورے کیے جائیں گے ؟کیونکہ نوٹ زیادہ تعدا د میں ہیں اور ان کے مقابلے میں سونا کم مقدارمیں۔ 

    چنانچہ حکومتوں نے اس خطرہ کے پیش نظرنوٹ اپنے قبضہ و تصرف میں لے کر ایک مخصوص اور معیاری صورت دےدی اور باقی تمام بینکوں پر اس قسم کے نوٹوں کے چھاپنے پر پابندی عائد کر دی۔

    اسی طرح حکومتوں کی جانب سے نوٹ کی سونے سے تبدیلی کو روکنے کے لئے مختلف قسم کے اقدامات کیے گئے آخر کار نوٹ کی سونے سے تبدیلی کومکمل طور پرروک دیاگیا۔ چنانچہ اب نوٹ کے بدلے میں نوٹ ہی مل سکتاہے نہ کہ سونا، چاندی ۔ اور اب حکومتوں کے نزدیک نوٹ سونے یا چاندی کی رسید نہیں بلکہ الگ سے ایک مال یعنی ثمن اصطلاحی
 (Terminological currency)
ہے ۔

    چنانچہ اس و ضاحت کے باوجود بعض علماء کے نزدیک نوٹ قرض کی رسید تھی جن علماء نے اسے قرض کی رسیدقرار دیا تھا ان کے نزدیک اس نوٹ کوجاری کرنے والے بینک کی حیثیت مقروض
 (Debtor)
کی سی تھی، اور جس کے پاس نوٹ تھے وہ دائن
 (Creditor)
کی حیثیت رکھتاتھا۔

     بعض علماء کے نزدیک نوٹ ثمن اصطلاحی ہی تھا اور یہی نوٹ کی حقیقت ہے چنانچہ نوٹ کی فقہی حیثیت کے متعین نہ ہونے کی و جہ سے علماء کے درمیان نوٹ کے
Flag Counter