اور تجھے معلوم ہے کہ نیک سلوک سے روگردانی کرنا کراہت تحریمی کا سبب نہیں،اسی لئے" فتح القدیر" میں فرمایا کہ اس میں کوئی حرج نہیں ؛کیونکہ ثمن کا ایک حصہ تو وعدہ کے مقابل ہوگیا اور آدمی پر ہمیشہ قرض دیناواجب نہیں، بلکہ وہ ایک نیک کام ہے۔
("فتح القدیر"، کتاب الکفالۃ، قبیل فصل في الضمان، ج۶، ص۳۲۴)
اور" عنایہ" میں فرمایا کہ قرض دینے سے روگردانی کرنا مکروہ نہیں ،اسی طرح سے تجارت میں نفع کی طمع بھی مکروہ نہیں، ورنہ نفع پر خرید و فروخت کرنا بھی مکروہ ہوتا۔
("العنایۃ"، کتاب الکفالۃ، قبیل فصل في الضمان، ج۶، ص۳۲۳)