Brailvi Books

کفل الفقیہ الفاھم فی احکام القرطاس الدراھم
96 - 199
سے نقل کیا کہ:" امام محمد - رحمہ اللہ- نے" مبسوط" کی کتاب الصرف میں ایک پیسے کو دو معیّن پیسوں کے بدلے میں بیچنے کا مسئلہ ذکر فرمایا اور طرفین کے قبضہ
(Custody From Both Sides)
 کو شرط قرار نہیں دیا، جبکہ "جامع صغیر" میں ایسی عبارت ذکر فرمائی جو قبضہ طرفین کے شرط ہونے پر دلالت کرتی ہے، اسی لئے بعض مشائخ نے اس دوسرے حکم کو صحیح قرار نہیں دیا؛کیونکہ بیع صَرف میں تعین کے ساتھ دونوں طرف کا قبضہ شرط ہے، جبکہ یہاں پیسوں کو چاندی کے روپے سے ادھار بیچنے کی صورت میں قبضہ طرفین کے شرط ہونے کاحکم نہیں، اور بعض نے اسے درست قرار دیا؛ کیونکہ پیسے ایک جہت سے متاع کا حکم رکھتے ہیں اور ایک جہت سے ثمن کا، لہٰذا پہلی جہت کے سبب کمی بیشی جائز ہوئی، اور دوسری کے سبب قبضہ طرفین شرط ہوا۔
("رد المحتار"، کتاب البیوع، باب الرّبا، مطلب في استقراض الدراھم عدداً، ج۷، ص۴۳۳)
    أقول وباﷲ التوفیق:علامہ شامی نے" بحر" اور" بحر "نے" ذخیرہ" کی اتباع کرتے ہوئے جویہ کہا کہ" جامع صغیر"کا کلام دونوں طرف کے قبضہ کے شرط ہونے پر دلالت کرتا ہے، بندہ ضعیف کو اس میں سخت تأمّل ہوا تو میں نے" جامع صغیر" کی طرف رجوع کیا تو اس کی عبارت یوں پائی: " امام محمد رضی اﷲ تعالیٰ عنہ امام ابویوسف رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور وہ امام اعظم رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نے پیٹ کی دو رطل چربی ایک رطل چکی کی چربی کے عوض یا دورطل گوشت ایک
Flag Counter