| کفل الفقیہ الفاھم فی احکام القرطاس الدراھم |
درست ہی رہے گی اور روپوں پر قبضہ کرنے سے پہلے سب روپے کھوٹے پائے اور واپس دے دیئے تو امام اعظم -رضی اﷲ تعالیٰ عنہ -کے نزدیک بیع باطل ہوگئی، خواہ اسی مجلس میں بدل کر کھرے پیسے لے لئے ہوں یا نہ لئے ہوں، دونوں صورتوں میں بیع باطل ہے۔جبکہ صاحبین (یعنی امام ابویوسف اور امام محمد) رضی اﷲ تعالیٰ عنہما- فرماتے ہیں: اگر اسی مجلس میں کھوٹوں کے بدلے کھرے پیسے لے لئے ہوں تو بیع درست رہے گی، اور اگر نہ لئے تو بیع باطل ہوجائے گی، اور اگر صرف کچھ پیسے کھوٹے پاکر واپس دیئے ہوں تو قیاس
(Conjecture)
یہی ہے کہ فقط اتنے پیسوں ہی میں بیع باطل ہو، مگر امام اعظم -رضی اﷲ تعالیٰ عنہ- بطور استحسان ( استحسان، ایسے قیاسِ خفی
(Secret Conjecture)
کا نام ہے جو ظاہری قیاس کے مقابلے میں ہوتا ہے، مثلاً چیل کا گوشت حرام ہے، چنانچہ اس کے لعاب کا بھی یہی حکم ہے۔ پس اگر چیل دہ در دہ سے کم پانی میں سے پئے تواس پانی پر ناپاکی کا حکم ہونا چاہے ؛کیونکہ جب چیل پانی پئے گی اس کی زبان پانی سے مس ہوگی، اور پانی ناپاک ہوجائے گا، مگر اس میں استحسان یہ ہے کہ چیل پانی اپنی چونچ میں لیتی اور پھر حلق سے نیچے اتارتی ہے ۔ چنانچہ اس کے لعاب کے پانی میں شامل ہونے کا احتمال کمزورہے، جبکہ اس کی چونچ ہڈی کی ہوتی ہے اور سوائے خنزیر کے تمام حیوانات کی