سوال ۸ :کیا اس نوٹ کو بطور قرض دینا جائز ہے؟ اگر جائز ہے تو قرض واپس کرتے وقت یہی نوٹ واپس کئے جائیں گے یا چاندی کے روپے بھی دیئے جاسکتے ہیں؟
ا لجو ا ب
جی ہاں! نوٹ کو بطور قرض دینا جائز ہے؛ کیونکہ یہ مثلی(Similar) چیز ہے اور قرض واپس کرتے وقت مثلی چیز ہی دی جاتی ہے، بلکہ ہر قسم کے دین میں مثلی چیز ہی دی جاتی ہے، مگر جب لین دین کرنے والے کسی دوسری چیز کے لینے دینے پر راضی ہوجائیں( کسی دوسری چیز کے لینے دینے پر راضی ہونے سے مراد یہ ہے کہ قرض دیتے وقت اس کی شرط نہ لگائی گئی ہو۔ اگر نوٹ قرض دیتے وقت یہ شرط لگائی ہو کہ ادائیگی کسی اور جنس میں کی جائیگی تو ناجائز ہے۔ مثلاً سو کا نوٹ قرض دیا اور شرط لگالی کہ واپسی میں اتنی چاندی یا کپڑا دے دینا جتنا سو روپے میں ملتا ہے تو ایسی شرط ناجائز ہے، جیسا کہ اس کی تصریح امام اہلسنت نے" فتاویٰ رضویہ" ،جلد ۸، صفحہ ۹۳ میں فرمائی ہے، بلکہ اس عبارت سے یہ مراد ہے کہ ادائیگی کے وقت قرض ادا کرنے والے نے کہا کہ میں سو کا نوٹ نہیں دے سکتا بلکہ اس قیمت کی چاندی یا ڈالرز یا پونڈز دینا چاہتا ہوں، پس اگر قرض وصول کرنے والا راضی ہوجائے تو جائز ہے )تو دوسری چیز بھی دی جاسکتی ہے۔