Brailvi Books

کفل الفقیہ الفاھم فی احکام القرطاس الدراھم
85 - 199
گیہوں دو مٹھی گیہوں کے بدلے بیچنا جائز ہے" اسی اصول کے تحت نکالا گیا ہے۔

جبکہ محقق نے" فتح القدیر" میں اس مسئلہ کا رد کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ" اس پر دل مطمئن نہیں ہوتا۔بلکہ جب سود کی حرمت لوگوں کے مال کی حفاظت کے لئے ہے توواجب ہے کہ دو سیب کے بدلے ایک سیب اور دو مٹھی کے بدلے ایک مٹھی گیہوں بیچنا حرام ہو، اور اگر کسی علاقے میں نصف صاع سے چھوٹے پیمانے پائے جاتے ہوں (جیسا کہ ہمارے ہندوستان میں صاع کا چوتھائی اور آٹھواں حصہ بھی مقرر ہے) پھر تو اس زیادتی کے حرام ہونے میں کوئی شک نہیں، اور یہ کہنا کہ" شریعتِ مطہَّر ہ نے مالی واجبات مثلاً کفَّارہ اور صدقہ فطر میں جو پیمانے مقرر فرمائے ہیں ان میں نصف صاع سے کم کوئی پیمانہ
 (Measure)
مقرر نہیں کیا"، اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ ایک مٹھی کے بدلے دو مٹھی بیچنے میں جو واضح فرق ہے اسے یکسر بے اثر کردیا جائے"۔
 ("فتح القدیر"، کتاب البیوع، باب الربوا، ج۶، ص۱۵۲،۱۵۳،)
    محقق صاحب کے اس کلام کو" بحر الرائق"، "نہر الفائق"،" شرنبلالیہ"، "درمختار" اور حواشی وغیرہ میں اسی طرح مقرر رکھا گیا، اور یہ بہت اچھا کلام ہے۔

اسی طرح ہم بھی یہی کہتے ہیں کہ جن چیزوں پر بھی مال کی تعریف صادق آتی ہے اگرچہ ان کی قیمت ایک پیسہ سے کم ہو وہ سب قیمت والے مال ہوں گے، لہٰذا ان کے ذریعے خریدو فروخت کے جائز ہونے میں کوئی شک نہیں، جیسا کہ گزشتہ کلام میں چند
Flag Counter