Brailvi Books

کفل الفقیہ الفاھم فی احکام القرطاس الدراھم
83 - 199
     لہٰذا اگر ایک پیسہ سے کم میں خرید و فروخت نہ کرنے کو واجب کردیا جائے تو یہ شریعت پر زیادتی ہوگی جو قابلِ قبول کیسے ہوسکتی ہے ؟ پھر شاید کوئی یہ کہے کہ شریعت نے پیسے کی مالیت کی مقدار
 (Quantity)
مقرر نہیں فرمائی اور پیسہ وقت و جگہ کے بدلنے سے بدل جاتا ہے لہٰذا ضروری ہے کہ ہر جگہ اسی علاقے کا پیسہ معتبر ہو، جیسا کہ اوپر گزر چکا ہے کہ بعض لوگوں کے کسی شئے کو مال بنانے سے بھی مالیت ثابت ہوجاتی ہے، لہٰذا دنیا کے سب سے چھوٹے پیسے کو تلاش کرنا واجب ہوا، حالانکہ اس میں حرجِ عظیم ہے اور شریعت حرج کو دور فرمادیتی ہے اور یہی بات غور طلب ہے۔

    بے شک "کفایہ "کے باب البیع الفاسد کی ابتداء میں لکھا ہے کہ بعض اوقات کسی شئے کا قیمت والا ہونا بغیر مالیت کے بھی ثابت ہوجاتا ہے؛ کیونکہ گیہوں کا ایک دانہ
(Grain)
مال نہیں ہے لہٰذا اس کی بیع صحیح نہیں، اگرچہ اس سے نفع حاصل کرنا شرعاً

جائز ہے ؛کیونکہ لوگ اسے مال نہیں سمجھتے۔
 ("الکفایۃ" معَ" فتح القدیر"، کتاب البیوع، باب البیع الفاسد، ج۶، ص۴۳)
    اسی طرح "کشف کبیر"و "بحرا لرائق "و "ردالمحتار" میں ہے اور" فتح القدیر" میں ایک دانے کی جگہ چند دانے فرمایا اور ہم نے قابلِ اعتمادعلماء سے کسی کے بارے میں نہیں سنا کہ وہ فرماتے ہوں کہ ایک پیسہ سے کم کی چیز مال نہیں ہے ۔
Flag Counter