Brailvi Books

کفل الفقیہ الفاھم فی احکام القرطاس الدراھم
54 - 199
    وہ ظالم و بے باک لوگ جو اعلانیہ سود کھاتے ہیں اور قرض وصول ہونے تک سود کی ماہوار شرح مقرر کئے بغیر کسی کو ایک روپیہ بھی قرض نہیں دیتے،وہ لوگ بھی نوٹ لے کر چاندی کا روپیہ دیتے ہیں اور اس پر ایک پیسہ بھی زائد نہیں مانگتے، نہ مہینے کے بعد اور نہ ہی سال کے بعد۔ اگر وہ اسے قرض سمجھتے تو زائد رقم وصول کرنا ہر گزنہ چھوڑتے۔ 

    پس حق یہ ہے کہ سب لوگ نوٹ سے لین دین اور خریدو فروخت ہی کا قصد کرتے ہیں، نوٹ دینے والا یقینا جانتا ہے کہ میں روپے لے کر نوٹ اپنی ملک
(Ownership)
سے خارج کرچکا ہوں، اور نوٹ لینے والا یقینا جانتا ہے کہ میں روپے دیکر نوٹ کا مالک
 (Owner)
ہوگیا، اور وہ شخص نوٹ کو روپوں، اشرفیوں اور پیسوں کی طرح اپنا مال اور پونجی
 (Wealth)
سمجھتا ہے، اور اسے جمع کرکے رکھتا ہے، اور ہبہ کرتا ہے، اور اس کے بارے میں وصیت
 (Will)
کرتا ہے ،اور اسے صدقہ کرتا ہے، اور لوگ اسے خرید و فروخت ہی سمجھتے ہیں ،اور تجارت ہی کا قصد کرتے ہیں۔

    یہ ایک طے شدہ اصول ہے کہ لوگوں کے معاملات میں ان کی نیتوں کا اعتبار ہوتا ہے؛کیونکہ اعمال کا دار ومدار نیتوں ہی پر ہے، اور ہر شخص کے لئے وہی ہے جس کی وہ نیت کرے۔
 ("صحیح البخاري"، کتاب بدء الوحي، باب کیف کان بدء الوحي إلی رسول اللہ  ، رقم الحدیث: ۱، ج۱، ص۶)
Flag Counter