Brailvi Books

کفل الفقیہ الفاھم فی احکام القرطاس الدراھم
38 - 199
نزدیک نوٹ پر زکوۃ کی ادائیگی بھی واجب نہ تھی؛ کیونکہ قوانینِ شرعیہ کی رو سے مال اگر کسی کو قرض دیا گیا ہو تو اس پر اس وقت تک زکوٰۃ کی ادائیگی واجب نہیں ہوتی کہ جب تک اس مال کے پانچویں حصہ پر قبضہ نہ کرلے۔چنانچہ اس مسئلے کو ذہن میں رکھتے ہوئے جواب ارشاد فرمایاکہ نوٹ میں زکوٰۃ اپنی شرطوں کے ساتھ واجب ہے کہ وہ خود قیمتی مال
 (Valuable Property)
ہے دستاویز یا قرض کی رسید نہیں کہ جب تک نصاب کا پانچواں حصہ قبضے میں نہ آئے زکوٰۃ دینا واجب نہ ہو، اور نوٹ میں نیت تجارت کی بھی حاجت نہیں اس لئے کہ فتویٰ اس پر ہے کہ ثمن اصطلاحی
 (Terminological Currency)
جب تک رائج ہے زکوٰۃ اس میں واجب ہے۔ اس سوال سے اس وہم کا ازالہ بھی مقصود تھاجوکہ بعض لوگوں کے غلط فتوی کی و جہ سے پیداہوگیاتھا وہ یہ کہ چونکہ نوٹ سونے چاندی کی رسید ہے اس لئے فقیر جب تک ان نوٹ کوخرچ نہ کرلے زکوۃ ادانہ ہوگی اور اگر بالاتفاق فقیر کے استعمال سے پہلے یہ نوٹ فقیر سے ضائع ہوگئے توبھی زکوۃ ادانہ ہوگی۔لہذاامام اہلسنت رحمہ اللہ تعالی نے واضح لفظوں میں فرمادیاکہ نوٹ خود قیمتی مال ہے، مطلقاً فقیر کو ازروئے تملیک حوالے کرنازکوٰۃ کی ادائیگی کیلئے کافی ہے۔

سوال نمبر۳ : کیا اسے مہر
 (Dower)
میں دینادرست ہے ؟

جواب : یہ سوال اس لئے کیا گیا تاکہ یقینی طور پر واضح ہوجائے کہ نوٹ" مال" ہے کیونکہ شرعی قوانین کے مطابق مہر میں وہی چیز دی جاسکتی ہے جو کہ بیع میں ثمن بننے کی صلاحیت 

رکھتی ہو،اور بیع میں ثمن وہی چیز بن سکتی ہے جو کہ "مالـ" ہو۔ چنانچہ آپ علیہ رحمۃ الرحمن نے جواباً ارشاد فرمایاکہ" نوٹ مہر میں دیا جاسکتا ہے" ۔

سوال نمبر ۴ : اگر کوئی اسے محفوظ مقام سے چوری کرے تو اسکا ہاتھ کاٹنا واجب
Flag Counter