Brailvi Books

کفل الفقیہ الفاھم فی احکام القرطاس الدراھم
35 - 199
بیٹھے'' کفل الفقیہ''کے مسوَّدہ
(First Copy)
کا مطالعہ کررہے ہیں۔

جب وہ اس مقام پر پہنچے جہاں اعلیٰ حضرت امام احمد رضاخان علیہ رحمۃ الرحمن نے '' فتح القدیر'' سے یہ عبارت نقل فرمائی کہ'
' لو باع کاغذۃ بألف یجوز ولایکرہ''
 (فتح القدیر ، کتاب الکفالۃ ، ج ۶، ص۳۲۴)
    یعنی'' اگر کوئی شخص اپنے کاغذ کا ٹکڑا ہزار روپے میں بیچے تو بلاکراہت جائز ہے"تو پھڑک اٹھے اور اپنی ران پر ہاتھ مار کر بولے:
    '' اَیْن جَمَالُ ابْنُ عَبْدِاﷲِ مِنْ ھٰذَا النَّصِّ الصَّرِیْح''
    ترجمہ:'' جمال بن عبد اﷲ اس واضح دلیل سے کہاں غافل رہ گیا''۔۔۔۔۔۔!

    کیونکہ جب گزشتہ زمانے میں حضرت مولانا جمال بن عبد اﷲ بن عمر مکی -علیہ الرحمۃ- مفتی حنفیہ تھے تو ان سے بھی نوٹ کے بارے میں سوال ہوا تھا۔ انہوں نے جواب میں لکھا کہ ''علم علماء کی گردنوں میں امانت ہے، مجھے اس کے جزئیہ
 (Detail)
کا کچھ پتہ نہیں چلتا کہ کیا حکم دوں۔'' موجودہ مفتی حنفیہ مولانا عبد اﷲ بن صدیق کا اشارہ انہیں کی جانب تھا۔
 (''سوانح إمام أحمد رضا''، ص۳۱۴)
    بہر حال عرب کے علماء کرام رحمۃ اللہ تعالی علیہم نے تو نوٹ کی حقیقت بیان کرنے سے معذرت کرکے دیانت داری کا ثبوت دیا اور بقول حضرت سیدنا علی مرتضی کرم اللہ تعالی وجہہ الکریم کہ''لا أدري یعنی میں نہیں جانتا کہنا نصف علم ہے '' کہہ کرلائقِ تحسین ہوئے۔ لیکن مخالفین میں سے بعض کو سیدی اعلی حضرت علیہ الرحمۃ کی دلائل سے مزین و مبرہن یہ تحقیق انیق ہضم نہیں ہوئی بلکہ نوٹ سے متعلق پوچھے گئے سوالات کے جوابات میں تصریحاتِ ائمہ کی مخالفت کرکے حکمِ شرع کچھ کاکچھ کردیاجس
Flag Counter