Brailvi Books

کفل الفقیہ الفاھم فی احکام القرطاس الدراھم
31 - 199
'' النھرالفائق'' ،" الدرالمختار'' ،'' طحطاوی علی الدر''اور'' ردالمحتار''میں ہے۔

    بہرحال مذکورہ بالاعبارت میں'' متعین ''کی قید اس لئے لگائی ہے، کہ ہر ملک کی کرنسی ایک علیحدہ جنس
 (Species)
ہے،چنانچہ جب ایک ہی ملک کے نوٹوں کا آپس میں تبادلہ کیا جائے گا تو قدر
 (Dimension/Weight And Measurement)
کے نہ پائے جانے کی و جہ سے کمی بیشی جائز، اورجنس کے پائے جانے کی و جہ سے ادھار ناجائز ہوگا؛کیونکہ جب سود کی دو علتوں یعنی جنس اور قدرمیں سے کوئی ایک علت پائی جائے تو کمی بیشی حلال اور ادھار ناجائز ہوتاہے ۔جیسا کہ شیخ الاسلام برھان الدین امام ابوالحسن علی بن ابی بکرمرغینانی رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں:
''إذا وجد أحدھما وعدم الآخر حل التفاضل وحرم النسأ مثل أن یسلم ھرویاً فی ھرویِ أو حنطۃ فی شعیر''۔
 ("الھدایۃ"،کتاب البیوع ، باب الربا، الجزء الثالث ،ص ۶۲)
    ترجمہ:" اگر سود کی دونوں علتوں میں سے کوئی ایک پائی جائے اور دوسری نہ پاجائے تو زیادتی (کمی بیشی )جائز ہے اور ادھار حرام ہے، جیسے کہ ہرات کے بنے ہوئے کپڑے کو ہرات ہی کے کپڑے کے عوض بیچے یاگندم کو جو کے بدلے میں" ۔

    چنانچہ ایک ہی ملک کے نوٹوں کے آپس میں تبادلہ کے وقت قدرکے مفقودہونے کی و جہ سے کمی بیشی جائز ہوگی، اورجنس کے پائے جانے کی وجہ سے ادھار ناجائز،مثلا ًدس روپے کے نوٹ کو بیس روپے یااس سے کم یازائد میں ہاتھوں ہاتھ بیچناجائزہوگا۔ اوراگردومختلف ممالک کی کرنسیزکاآپس میں تبادلہ کیاجائے تو کمی بیشی بھی جائز ہے اورادھار بھی جائزہے، صرف ایک جانب سے قبضہ کافی ہے۔
Flag Counter