| خاصیات ابواب الصرف |
بَضَمِّ مُضَارِعِہ المُغَالَبَۃُ، ونَعْنِی بہا أن یَغْلِبَ أَحَدٌ الامرَیْن الاخرَ فی معنَی الْمَصْدَرِ، فلا یکونُ إذنْ إلا مُتَعَدِّیاً نحوُ:کَارَمَنِی فَکَرُمْتُہ أَکْرُمُہ: أی غَلَبْتُہ بِالْکَرَم، وخَاصَمَنِی فَخَصَمْتُہ أخصُمہ، وغَالَبَنِی فَغَلَبْتُہ أغلُبہ، وقد یکونُ الفعلُ من غیرِ ہٰذَا البابِ کَغَلَب وخصَم وکرُم، فإذا قَصَدتَّ ہذَا الْمَعْنٰی نَقَلْتَہ إلی ہذا البابِ، إلا أن یکونَ المثالَ الواویَّ کَوَعَدَ،والْاجوفَ والنَّاقِصَ الیائیین کَبَاعَ ورمَی، فَاِنَّکَ لا تَنْقُلْہا عن فعَل یفعِل، بل تنقُلُہا إلیہ إنْ کَانَتْ مِنْ غَیْرِہٖ''
یعنی اس باب کا ایک خاصہ مغالبہ ہے اور اس سے مراد دو امور میں سے کسی ایک کادوسرے پر معنی مصدری میں غالب آجانا ہے (غلبہ کے اظہار کیلئے باب مفاعلہ کے بعد اسی باب سے فعل ذکر کرتے ہیں)لہذا ایسی صورت میں فعل متعدی ہی ہوتا ہے۔ جیسے :کَارَمَنِی زَیْدٌ فَکََرُمْتُہ یاأَکْرُمُہ: أی غَلَبْتُہ بِالْکَرَم(میرا اور زید کا سخاوت کرنے میں باہم مقابلہ ہوا اور میں سخاوت کرنے میں غالب آگیا )،
وخَاصَمَنِی فَخَصَمْتُہ یاأخصُمہ، وغَالَبَنِی فَغَلَبْتُہ یاأغلُبُہ
کبھی یہ فعل باب نصر کے علاوہ سے بھی آتا ہے۔جیسے:غَلَبَ وخَصَمَ وکَرُمَ یہاں یہ ذہن میں رہے کہ دوسرے باب سے آنے کی صورت میں بھی اس فعل کو باب نَصَرَ کے ہی وزن پر ذکر کیا جائے گا جبکہ وہ فعل مذکور صحیح، اجوف واوی، یا ناقص واوی ہو۔جیسے یُضَارِبُنِی زَیْدٌ فَاَضْرُبُہ ہاں اگر مذکور فعل مثال واوی،اجوف یائی یا ناقص یائی ہو تو باب ضَرَب سے آئے گا۔