Brailvi Books

خاصیات ابواب الصرف
38 - 136
۱۔ بلوغ رتبی : فاعل کا مأخذ کے مرتبے تک پہنچنا ۔

۲۔بلوغ زمانی: فاعل کا مأخذ کے وقت میں پہنچنا ۔

مثال 			معنی				مأخذ	مدلول مأخذ

نَصَفَ زَیْدٌ الْقُرْآنَ	زید قرآن کے نصف تک پہنچ گیا	نِصْفٌ	قرآن کاآدھا حصہ جو ایک مرتبہ ہے	

سَبَتَ زَیْدٌ		زید ہفتہ کے دن پہنچا		سَبْتٌ	ہفتہ جو کہ ایک وقت /زمانہ ہے

    پہلی مثا ل بلوغ رتبی کی ہے کہ اس میں فاعل(زید)قرآن کے نصف تک پہنچاجو کہ ایک مرتبہ ہے ،کوئی زمانہ نہیں۔دوسری مثال بلوغ زمانی کی ہے کیونکہ اس میں فاعل(زید)ہفتے کے دن پہنچااورہفتے کادن ایک وقت ہے کوئی رتبہ نہیں ہے۔

(13)۔۔۔۔۔۔ تَطْلِیَہ:    

مثال			معنی		مأخذ		مدلول مأخذ

قَطَرَ زَیْدٌ الْبَعِیْرَ	زید نے اونٹ کو تارکول ملا	قَطِرَانٌ		تارکول

    اس مثال میں فاعل(زید)نے مفعول(اونٹ)کو مأخذ (تارکول) ملا۔

(14)۔۔۔۔۔۔مُطَاوَعَتِ اِفْتِعَال:

    یعنی باب نَصَرَکے بعد باب اِفْتِعَال کو اس غرض سے لانا تاکہ معلوم ہو کہ باب نَصَرَکے فاعل نے اپنے مفعول پر جو اثر کیا تھا، مفعول نے اس اثر کو قبول کرلیاہے۔ جیسے: سَآءَ بَکْرٌ زَیْدًا فَا سْتَآءَ زَیْدٌ، بکر نے زید کو غمگین