Brailvi Books

خاصیات ابواب الصرف
25 - 136
 (۴۵)۔۔۔۔۔۔مُبَالَغَہ:فعل (ماخذ) میں مبالغہ یعنی معنی کی زیادتی ہوناجیسے: 

اِسْوَدَّ الْلَیْلُ: رات خوب سیاہ ہوگئی ۔

(۴۶)۔۔۔۔۔۔مُطَاوَعَت:کسی فعل کے بعد دوسرے باب سے فعل کا اس غرض سے لانا تاکہ یہ ظاہر ہو کہ پہلے فعل کے فاعل نے اپنے مفعول پر جو اثر کیاتھا مفعول نے اس اثر کو قبول کرلیاہے۔ جیسے : بابِ مُفَاعَلَۃ کے بعد بابِ تَفَعُّل کالانا، مثلاً:
بَاعَدَ بَکْرٌ وَلِیْداً فَتَبَعَّدَ
 ( بکر نے ولید کو دور کیا تو وہ دور ہوگیا)

(۴۷)۔۔۔۔۔۔مُشَارَکَت: کسی کام میں دو چیزوں کا اس طرح شریک ہونا کہ ان میں سے ہر ایک فاعل بھی ہو اور مفعول بھی۔جیسے:
قَاتَلَ خَالِدٌ نَعِیْماً،
خالد اور نعیم نے آپس میں لڑائی کی۔

(۴۸)۔۔۔۔۔۔مُوَافَقَت: موافقت کالغوی معنی باہم ایک دوسرے کے مطابق ہونا۔اوریہاں اس سے ایک باب کا دوسرے باب کے ہم معنی ہونا مراد ہے۔ جیسے:
مَتَنَ زَیْدٌعَمْروًا
یہ فعل، ضَرَبَ اور نَصَرَ دونوں ابواب سے آتاہے اور دونوں ابواب میں اسکا معنی مشترک ہے ،یعنی زید نے عمرو کی پیٹھ پر مارا۔

(۴۹)۔۔۔۔۔۔ مُغَالَبَہ : اس سے مراد دو امور میں سے کسی ایک کادوسرے پر معنی مصدری میں غالب آجانا ہے (غلبہ کے اظہار کیلئے باب مفاعلہ کے بعد اسی باب سے فعل ذکر کرتے ہیں)۔ جیسے :
کَارَمَنِیْ زَیْدٌ فَکَرَمْتُہ،،
میرا اور زید کا سخاوت کرنے میں باہم مقابلہ ہوا اور میں سخاوت کرنے میں غالب آگیا ۔

(۵۰)۔۔۔۔۔۔نِسْبَت بمَأخَذ: فاعل کا مفعول کی طرف مأخذ کی نسبت
Flag Counter