Brailvi Books

کراماتِ فاروقِ اعظم
42 - 48
بنانے لگے ، ( بنیاد کھودتے وقت ) ایک پاؤں ظاہر ہوا تو سب لوگ گھبرا گئے اور لوگوں نے گمان یہ کیا کہ یہ رَسُوْلُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا قدم مبارَک ہے اور کوئی ایسا شخص نہ ملا جو اسے پہچان سکتاتو حضرت عروہ بن زبیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے کہا :  لَا، وَاﷲِ! مَاھِیَ قَدَمُ النَّبِیِّ صلَّی ا ﷲعلیہ وسلَّم، مَا ھِیَ اِلَّا قَدَمُ عُمَرَرَضِیَ اللہُ عَنْہُ ۔  یعنی خدا کی قسم! یہ حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا قدم شریف نہیں ہے بلکہ یہ حضرتِ عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کا قدم مبارک  ہے ۔ (بُخاری شریف ج۱ ص۴۶۹حدیث ۱۳۹۰)  
جَبیں میلی نہیں ہوتی دَھن میلا نہیں ہوتا
غلامانِ محمد کاکفن میلا نہیں ہوتا
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! 	صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
         میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!بیان کواختتام کی طرف لاتے ہوئے سنَّت کی فضیلت اور چند سنَّتیں اور آداب بیان کرنے کی سعادَت حاصِل کرتا ہوں ۔  تاجدارِ رسالت،  شَہَنْشاہِ نُبُوَّت، مصطَفٰے جانِ رَحْمت، شَمْعِ بزمِ ہدایت ، نَوشَۂ بز مِ جنَّت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ جنَّت نشان ہے  :  جس نے میری  سنَّت سے  مَحَبَّت کی اُس نے مجھ سے مَحَبَّت کی ا و ر جس نے مجھ سیمَحَبَّت کی وہ  جنَّت  میں میرے ساتھ ہو گا ۔                (اِبنِ عَساکِر ج۹ص۳۴۳)
سینہ تری سنَّت کا مدینہ بنے آقا
جنَّت میں پڑوسی مجھے تم اپنا بنانا