امیرُالْمُؤمِنِین!اللہ کی طرف سے آپ کو بِشارت ہوکیونکہ آپ کو رَسُوْلُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی صُحبت اور اسلام میں سَبَقَت نصیب ہوئی ، جیسا کہ آپ کو معلوم ہے اور جب خلیفہ بنائے گئے تو عدل وانصاف کیا پھر آپ شہید ہونے والے ہیں ۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا : ’’میں چاہتا ہوں کہ یہ اُمُور میرے لیے برابر برابر ہو جائیں ، نہ مجھ پر کسی کا حق نکلے نہ میرا کسی پر ۔ ‘‘ جب وہ شخص جانے لگاتو اس کی چادر زمین کو چُھو رہی تھی ، آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا : اس کو میرے پاس لاؤ ۔ جب وہ آگیا تو فرمایا : اے بھتیجے ! اپنے کپڑے کو اوپر کر لے یہ تیرے کپڑے کو زیادہ صاف رکھے گا اوریہ اللہکو بھی پسند ہے ۔ (بخاری ج۲ص۵۳۲ حدیث۳۷۰۰)
شدید زَخْمی حالت میں نَماز
جب حضرتِ سیِّدُنا عمرفاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ پرقاتِلانہ حملہ ہواتوعَرْض کی گئی : اے امیرُالْمُؤمِنِین!نَماز(کا وقت ہے )فرمایا : جی ہاں ، سنئے !’’جو شخص نَمازضائِع کرتا ہے اُس کا اسلام میں کوئی حِصّہ نہیں ۔ ‘‘ اور حضرتِ سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے شدید زَخمی ہونے کے باوُجُودنَماز ادا فرمائی ۔ (کتابُ الْکَبائِرص۲۲)
قَبْر میں بدن سلامت
’’ بخاری شریف ‘‘میں ہے : حضرت عُروہ بن زُبَیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے کہ خلیفہ ولید بن عبدالملک کے زمانے میں جب روضۂ منوَّرہ کی دیوار گری تو لوگ اُس کو