Brailvi Books

کراماتِ فاروقِ اعظم
35 - 48
عبرت پکڑیں اور اپنی عاقبت کی فکر کریں ۔  (عیون الحکایات (عربی) ص۱۵۲)
	رَبُّ الْاَنَام عَزَّوَجَلَّ ہمیں صَحابۂ کِرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کی شانِ عَظَمت نشان میں گستاخی وبے ادَبی سے محفو ظ رکھے اور تمام صَحابۂ کِرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کی سچی مَحَبَّت اور اُن کی خوب خوب تعظیم کرنے کی سعادت عنایت فرمائے ۔ اللہُرَحمٰن عَزَّوَجَلَّہم سب کو اپنی حفاظت میں رکھے ، ہمیں بے اَدبوں اور گستاخوں سے ہمیشہ محفوظ ومامون رکھے اور ہم سے کبھی ادنیٰ سی گستاخی بھی سر زد نہ ہو ۔ 
محفوظ سدا رکھنا خدا بے ادَبوں سے 
اور مجھ سے بھی سرزد نہ کبھی بے ادَبی ہو 	(وسائلِ بخشش ص ۱۹۳)
اٰمین بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وسلَّم
 صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! 	صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
	اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم! گستاخوں کا اَنجام بڑا درد ناک وعبرتناک ہوتا ہے ۔  ایسے نامُرادزمانے بھر کے لئے عبرت کا سامان بن جاتے ہیں ۔  جو اللہ و رسول  عَزَّ وَجَلَّ و صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کی پاک بارگاہوں میں نازیبا کلمات کہتے یا صَحابۂ کِرام واَولیائِ عُظام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  کی مبارک شانوں میں مُزَخرَفات (مُ ۔ زَخ ۔ رَ ۔ فات ۔ یعنی گالیاں ) بکتے ہیں آخِرت میں تو تباہی و بر بادی اُن کا مقدَّرضَروربنے گی مگر وہ دنیا میں بھی ذلیل ورُسوا ہو کر زمانے بھر کے لئے نشانِ عبرت بن جاتے ہیں اور حقیقی مسلمان کبھی بھی اُ ن کے عقائِد و اَعمال کی پیروی نہیں کرتے ۔  اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہمیں ہمیشہ با ادب رہنے اور باادب لوگو ں یعنی عاشقانِ رسول