Brailvi Books

کراماتِ فاروقِ اعظم
34 - 48
عذاب کا مُسْتَحِق ہے ۔ جب تُو اُن کو اپنے بارے میں بتا چکے گا تو تجھے دو بارہ تیرے اصلی ٹھکا نے (یعنی جہنَّم) میں ڈال دیا جائے گا ۔ ‘‘بس! یہ خبر دینے کے لئے مجھے دوبارہ زندہ کیا گیا ہے تا کہ میری اِس عبرت ناک حالت سے گستاخانِ صَحابہ عبرت حاصل کریں اور اپنی  گستا خیوں سے باز آجائیں و ر نہ جو اِن حضراتِ قُدسِیَّہ عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کی شانِ عَظَمت نشان میں گستاخی کرے گا اُس کا انجام بھی میری طر ح ہو گا ۔ اِتناکہنے کے بعد وہ شخص دوبارہ مُردہ حالت میں ہوگیا  ۔ اِتنی دیر میں قبر کھودی جاچکی تھی اورکفَن کاانتِظام بھی ہوچکا تھا لیکن میں نے کہا :  میں ایسے بدبخت کی  تَجْہِیْز وتَکْفِیْنہر گز نہیں کرو ں گا جوشَیْخَیْنِ کَرِیْمَیْن (یعنی حضرتِ سیِّدُنا صِدِّیق اَکبرا ور حضرتِ سیِّدُنا فاروقِ اَعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا)کاگستا خ ہواور میں تَواِس کے پاس ٹھہرنا بھی گوارا نہیں کرتا ۔  یہ کہہ کر میں وہاں سے واپَس چل دیا ۔ بعد میں مجھے کسی نے خبر دی کہ اُس کے بدعقیدہ ساتھیوں نے ہی اُس کو غُسل دیااورنَمازِ جنازہ پڑھی ۔ اُن کے عِلاوہ کسی نے بھی نَمازِ جنازہ میں شرکت نہ کی ۔  حضرتِ سیِّدُنا خَلَف بن تَمِیمعَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہِ الْعَظِیْم  فرماتے ہیں  :  میں نے  حضرتِ سیِّدُنا ابوالحُصَیب بشیر عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْقَدِیْر سے پوچھا :  کیا آپ اس واقِعے کے وقت وہاں موجود تھے ؟ انہوں نے جواب دیا :  جی ہاں ! میں نے اپنی آنکھوں سے اُس بدبخت کو دوبارہ زندہ ہوتے دیکھا اور اپنے کانوں سے اُس کی باتیں سنیں ۔ یہ واقِعہ سن کر حضرتِ سیِّدُنا خَلَف بن تَمِیمعَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہِ الْعَظِیْم نے فرمایا :  اب میں گستاخانِ صحابہ کے اِس عبرت ناک اَنجام کی خبر لوگو ں کوضَرور دوں گا تاکہ وہ