خود کو عذاب سے ڈرانے کاانوکھا طریقہ
حضرتِ سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی فرماتے ہیں : حضرتِ سیِّدُنا عمر بن خطّاب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بسا اوقات آگ کے قریب ہاتھ لے جاتے پھر اپنے آپ سے سُوال فرماتے : اے خَطّاب کے بیٹے !کیا تجھ میں یہ آگ برداشت کرنے کی طاقت ہے ؟ (مناقب عمر بن الخطاب لابن الجوزی ص۱۵۴)
بکری کابچّہ بھی مرگیا تو ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
امیرُ الْمُؤْمِنِین، حضرتِ سیِّدُنا مولیٰ مُشکل کُشا، علیُّ الْمُرتَضٰی، شیرِخدا کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم فرماتے ہیں : میں نے امیرُالْمُؤمِنِین، حضرتِ سیِّدُناعمر بن خطّاب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو دیکھا کہ اُونٹ پرسُوار ہوکر بَہُت تیزی سے جارہے ہیں ، میں نے کہا : یاامیرَالْمُؤمِنِین ! کہاں تشریف لے جارہے ہیں ؟ جواب دیا : صَدَقے کا ایک اونٹ بھاگ گیا ہے اُس کی تلاش میں جارہا ہوں ، اگر دریائے فِرات کے کَنارے پر بکری کا ایک بچّہ بھی مرگیا تو بروز قِیامت عُمَر سے اس کے بارے پوچھ گچھ ہو گی ۔ (ایضاً ص۱۵۳ )
جہنَّم کو بکثرت یاد کرو
حضرت ِسیِّدُنافاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرمایا کرتے تھے : جہنَّم کو کثرت سے یاد کرو کیونکہ اِس کی گرمی نہایت سخْت اور گہرائی بَہُت زیادہہے اور اس کے گُرْزیعنی ہتھوڑے لوہے کے ہیں ۔ (جن سے مجرِموں کو مارا جائیگا) (ترمذی ج ۴ ص ۲۶۰ حدیث ۲۵۸۴)