Brailvi Books

کراماتِ صحابہ
36 - 342
۷۸۶

۹۲

تحقیق ِکرامات
    زمانہ نبوت سے آج تک کبھی بھی اس مسئلہ میں اہل حق کے درمیان اختلاف نہیں ہوا کہ اولیاء کرام کی کرامتیں حق ہیں اورہرزمانے میں اللہ والوں کی کرامتوں کا صدور وظہورہوتارہا اوران شاء اللہ عزوجل قیامت تک کبھی بھی اس کا سلسلہ منقطع نہیں ہوگا،بلکہ ہمیشہ اولیاء کرام سے کرامات صادروظاہرہوتی ہی رہیں گی۔

    اوراس مسئلہ کے دلائل میں قرآن مجیدکی مقدس آیتیں اوراحادیث کریمہ نیز اقوالِ صحابہ وتابعین کااتنا بڑا خزانہ اوراقِ کتب میں محفوظ ہے کہ اگران سب پراگند ہ موتیوں کو ایک لڑی میں پرودیا جائے تو ایک ایسا گراں قدر وبیش قیمت ہار بن سکتاہے جو تعلیم وتعلم کے بازار میں نہایت ہی انمول ہوگا اور اگران منتشراوراق کو صفحات قرطاس پرجمع کردیا جائے تو ایک ضخیم وعظیم دفتر تیار ہوسکتاہے ۔
کرامت کیا ہے
    مؤمن متقی سے اگر کوئی ایسی نادرالوجود وتعجب خیز چیز صادر وظاہر ہوجائے جو عام طور پر عادتاً نہیں ہواکرتی تو اس کو ''کرامت ''کہتے ہیں ۔ اسی قسم کی چیزیں اگر انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام سے اعلانِ نبوت کرنے سے پہلے ظاہر ہوں تو ''ارہاص''اور اعلان نبوت کے بعد ہوں تو ''معجزہ''کہلاتی ہیں اوراگر عام مؤمنین سے اس قسم کی چیزوں کا ظہور ہوتو اس کو ''معونت''کہتے ہیں اورکسی کافر سے کبھی اس کی خواہش کے مطابق
Flag Counter