Brailvi Books

کراماتِ صحابہ
182 - 342
مجاہدین کے اس لشکر کے ساتھ جہاد کے لیے تشریف لے گئے اور برابرمجاہدین کی صفوں میں کھڑے ہوکر جہاد کرتے رہے ۔ 

    جب سخت بیمار ہوگئے اورکھڑے ہونے کی طاقت نہیں رہی تو  آپ نے مجاہدین اسلام سے فرمایا کہ جب تم لوگ جنگ بندی کروتو مجھے بھی صف میں اپنے قدموں کے پاس لٹائے رکھواور جب میرا انتقال ہوجائے تو تم لوگ میری لاش کو قسطنطنیہ کے قلعہ کی دیوار کے پاس دفن کرنا۔ چنانچہ  ۵۱ھ؁ میں اسی جہاد کے دوران آپ کی وفات ہوئی اور اسلامی لشکر نے ان کی وصیت کے مطابق ان کو قسطنطنیہ کے قلعہ کی دیوار کے پاس دفن کردیا۔ 

    یہ اندیشہ تھا کہ شاید عیسائی لوگ آپ کی قبر مبارک کو کھودڈالیں مگر عیسائیوں پر ایسی ہیبت سوار ہوگئی کہ وہ آپ کی مقدس قبر کو ہاتھ نہ لگا سکے اورآج تک آپ کی قبر شریف اسی جگہ موجود ہے اورزیارت گاہ خلائق خاص وعام ہے جہاں ہر قوم وملت کے لوگ ہمہ وقت حاضری دیتے ہیں۔
کرامت 

قبرمبارک شفاخانہ بن گئی
    یہ آپ کی کرامت کا ایک روحانی اورنورانی جلوہ ہے کہ بہت ہی دور دور سے قسم قسم کے مایوس العلاج مریض آپ کی قبر شریف پر شفا کے لئے حاضری دیتے ہیں اور خدا کے فضل وکرم سے شفایاب ہوجاتے ہیں۔ (1)
 (اکمال فی اسماء الرجال،ص۵۸۶وحاشیہ کنزالعمال،ج۶،ص۲۲۵مطبوعہ حیدرآباد)
1۔۔۔۔۔۔الاکمال فی اسماء الرجال، حرف الھمزہ، فصل فی الصحابۃ، ص۵۸۶

واسد الغابۃ، خالد بن زید بن کلیب، ج۲، ص۱۱۶ملتقطاً
Flag Counter