مجاہدین کے اس لشکر کے ساتھ جہاد کے لیے تشریف لے گئے اور برابرمجاہدین کی صفوں میں کھڑے ہوکر جہاد کرتے رہے ۔
جب سخت بیمار ہوگئے اورکھڑے ہونے کی طاقت نہیں رہی تو آپ نے مجاہدین اسلام سے فرمایا کہ جب تم لوگ جنگ بندی کروتو مجھے بھی صف میں اپنے قدموں کے پاس لٹائے رکھواور جب میرا انتقال ہوجائے تو تم لوگ میری لاش کو قسطنطنیہ کے قلعہ کی دیوار کے پاس دفن کرنا۔ چنانچہ ۵۱ھ میں اسی جہاد کے دوران آپ کی وفات ہوئی اور اسلامی لشکر نے ان کی وصیت کے مطابق ان کو قسطنطنیہ کے قلعہ کی دیوار کے پاس دفن کردیا۔
یہ اندیشہ تھا کہ شاید عیسائی لوگ آپ کی قبر مبارک کو کھودڈالیں مگر عیسائیوں پر ایسی ہیبت سوار ہوگئی کہ وہ آپ کی مقدس قبر کو ہاتھ نہ لگا سکے اورآج تک آپ کی قبر شریف اسی جگہ موجود ہے اورزیارت گاہ خلائق خاص وعام ہے جہاں ہر قوم وملت کے لوگ ہمہ وقت حاضری دیتے ہیں۔