Brailvi Books

کراماتِ صحابہ
169 - 342
حضرت عبداللہ انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی مقدس لاش کو اٹھا کر بارگاہ رسالت میں لائے تو انکا یہ حال تھا کہ کافروں نے ان کے کان اورناک کو کاٹ کر ان کی صورت بگاڑدی تھی۔ میں نے چاہا کہ ان کا چہرہ کھول کر دیکھوں تو میری برادری اورکنبہ قبیلہ والوں نے مجھے اس خیال سے منع کردیا کہ لڑکا اپنے باپ کا یہ حال دیکھ کر رنج وغم سے نڈھال ہو جائے گا۔ اتنے میں میری پھوپھی روتی ہوئی ان کی لاش کے پاس آئیں تو سید عالم حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے فرمایا کہ تم ان پر روؤیا نہ روؤ فرشتوں کی فوج برابر لگاتاران کی لاش پر اپنے بازوؤں سے سایہ کرتی رہی ہے ۔(1)(بخاری،ج۱،ص۳۹۵)
کفن سلامت ،بدن تروتازہ
    حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ جنگ احد کے دن میں نے اپنے والد حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ایک دوسرے شہید(حضرت عمروبن جموح رضی اللہ تعالیٰ عنہ) کے ساتھ ایک ہی قبرمیں دفن کردیا تھا ۔ پھر مجھے یہ اچھا نہیں لگا کہ میرے باپ ایک دوسرے شہید کی قبر میں دفن ہیں اس لئے میں نے اس خیال سے کہ ان کو ایک الگ قبر میں دفن کروں ۔ چھ ماہ کے بعد میں نے ان کی قبر کو کھود کر لاش مبارک کو نکالاتو وہ بالکل اسی حالت میں تھے جس حالت میں ان کو میں نے دفن کیا تھا بجز اس کے کہ انکے کان پر کچھ تغیر ہوا تھا۔(2) (بخاری ،ج۱،ص۱۸۰ وحاشیہ بخاری)

    اورابن سعد کی روایت میں ہے کہ حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے چہرے
1۔۔۔۔۔۔صحیح البخاری،کتاب الجھاد والسیر، باب ظل الملٰئکۃ علی الشہید، الحدیث: 

۲۸۱۶، ج۲، ص۲۵۸

2۔۔۔۔۔۔صحیح البخاری، کتاب الجنائز، باب ھل یخرج المیت من القبر...الخ، الحدیث: 

۱۳۵۱،ج۱،ص۴۵۴
Flag Counter