Brailvi Books

کراماتِ صحابہ
147 - 342
کا سکہ تمام بہادران قریش کے اوپر بیٹھا ہوا تھا۔ دربار نبوت سے ان کو ''اسداللہ''و ''اسدالرسول'' (اللہ ورسول کا شیر)کا معزز خطاب ملا۔   ۳ھ ؁میں جنگ احد کے معرکہ میں لڑتے ہوئے شہادت سے سرفراز ہوگئے اور سید الشہداء کے قابل احترام لقب کے ساتھ مشہور ہوئے ۔ (1)
 (اکمال ،ص۵۶۰وزرقانی ج۳،ص۲۷۰تا۲۸۵ومدارج النبوۃ وغیرہ)
فرشتوں نے غسل دیا
    حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کا قول ہے کہ حضرت حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ان کی شہادت کے بعد فرشتوں نے غسل دیا۔ چنانچہ حضوراکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے بھی اس کی تصدیق فرمائی کہ بے شک میرے چچا کو شہادت کے بعد فرشتوں نے غسل دیا۔(2) (حجۃ اللہ علی العالمین، ص۸۶۳،ج۲بحوالہ ابن سعد)
تبصرہ
    مسئلہ یہ ہے کہ شہید کو غسل نہیں دیا جائے گا چنانچہ حضوراکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے حضرت حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو نہ تو خود غسل دیا نہ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کو اس کا حکم فرمایا لہٰذا ظاہر یہی ہے کہ چونکہ تمام شہدائے احد میں آپ سید الشہداء کے معزز خطاب سے سرفراز ہوئے اس لئے فرشتوں نے اعزازی طور پر آپ کے اعزازواکرام کا اظہار
1۔۔۔۔۔۔شرح الزرقانی علی المواھب اللدنیۃ، اسلام حمزۃ،ج۱،ص۴۷۷

والاکمال فی اسماء الرجال، حرف الحاء، فصل فی الصحابۃ، ص۵۹۰

ومدارج النبوت، قسم دوم، باب سوم بدء الوحی وثبوت نبوت...الخ،ج۲،ص۴۴

2۔۔۔۔۔۔حجۃ اللہ علی العالمین، الخاتمۃ فی اثبات کرامات الاولياء...الخ، المطلب الثالث 

فی ذکر جملۃجمیلۃ ...الخ،ص۶۱۴
Flag Counter